کراچی (ایجو کیشن رپورٹر)
جامعہ کراچی کے شعبہ علومِ اسلامیہ کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عارف خان ساقی پر تشدد اور بدسلوکی کے کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں مرکزی ملزم کونین علی گوہر شاہ اور پروفیسر ساقی کے درمیان باضابطہ صلح ہو گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق عدالت سے ضمانت پر رہائی کے بعد ملزم کونین شاہ نے پروفیسر عارف خان ساقی کے گھر جا کر ان سے ذاتی طور پر ملاقات کی اور اپنے رویے و اقدام پر معافی مانگی، جس پر پروفیسر ساقی نے انہیں معاف کر دیا۔
استاد کا احترام اور نقصان کا ازالہ
معافی کے بعد گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر عارف ساقی کا کہنا تھا: "بحیثیت استاد میں سمجھتا ہوں کہ ان کو اپنی غلطی کا احساس ہونا چاہیے تھا، تاکہ لوگوں کو بے رحمی سے پامال نہ کیا جائے بلکہ ان کا احترام ہو۔ الحمدللہ! یہ سبق اب انہیں اچھی طرح سے یاد ہو گیا ہے۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ واقعے میں متاثر ہونے والی کار کی کونین شاہ کی جانب سے مکمل مرمت کروا دی گئی ہے اور گاڑی کے اصل مالک نے بھی نقصان کی مکمل تلافی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
واقعے کا پس منظر
یاد رہے کہ یہ واقعہ صفورہ چورنگی کے قریب پیش آیا تھا جہاں ڈبل کیبن گاڑی کے مالک کونین گوہر شاہ نے اپنے مسلح گارڈز کے ہمراہ گاڑی کو حادثہ پیش آنے پر تلخ کلامی کے بعد پروفیسر عارف اور ان کے بھتیجے کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔
بعد ازاں سچل تھانے میں ڈاکٹر عارف ساقی کی مدعیت میں حبسِ بے جا، تشدد اور دھمکیاں دینے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کیا تھا۔
معافی اور گاڑی کے نقصان کا ازالہ ہونے کے بعد اب فریقین کے درمیان یہ تنازع خوش اسلوبی سے ختم ہو گیا ہے۔