اہم ترین

پاکپتن, اینٹی کرپشن کی ریڈ، 40 ہزار رشوت لیتے محکمہ تعلیم کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر گرفتار

پاکپتن(نامہ نگار) اینٹی کرپشن پنجاب نے کارروائی کرتے ہوئے محکمہ...

اردو یونیورسٹی کی زبوں حالی، ایچ ای سی کی اعلیٰ کمیٹی کی موجودہ قیادت تبدیل کرنے کی سفارشز

 اسلام آباد(سپیشل رپورٹر) ہائیر ایجوکیشن کمیشن  کی اعلیٰ سطح...

دنیا بھر میں 2025 کے دوران سکولوں پر حملوں میں 33 فیصد اضافہ ہوا، یونیسکو

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو...

پنجاب کی جامعات کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے نئی ’کمرشل پالیسی‘ کا اعلان، فنڈز میں اضافے کا فیصلہ

پنجاب یونیورسٹی کی آمدن میں 1200 فیصد اضافہ ہوا، زرعی زمین کی آمدن 20 ہزار سے 3 لاکھ تک پہنچ گئی: صوبائی وزیر تعلیم

لاہور (ایجوکیشن رپورٹر) حکومتِ پنجاب نے صوبے کی جامعات کو درپیش شدید مالی مشکلات اور فنڈز کی کمی سے نمٹنے کے لیے یونیورسٹیوں کی فنڈنگ میں اضافے اور تاریخ کی پہلی ’کمرشل پالیسی‘ متعارف کرانے کا بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔

ایک نجی ٹی وی چینل (سٹی 42) سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے بتایا کہ صوبائی کابینہ سے باقاعدہ منظوری کے بعد جامعات کے لیے پہلی کمرشل پالیسی نافذ کی جائے گی، جس کا بنیادی مقصد اعلیٰ تعلیمی اداروں کو مالی طور پر خودکفیل اور مستحکم بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال حکومت تمام یونیورسٹیوں کے مالی مسائل کے حل کے لیے گرانٹس اور فنڈنگ میں بھی خاطر خواہ اضافہ کر رہی ہے۔

صوبائی وزیر نے پنجاب یونیورسٹی کی مثال دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران یونیورسٹی کی مالی صورتحال میں نمایاں اور تاریخی بہتری آئی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پنجاب یونیورسٹی کی زرعی زمین سے حاصل ہونے والی آمدن جو پہلے صرف 20 ہزار روپے تھی، اب بڑھ کر 3 لاکھ روپے تک پہنچ چکی ہے، جبکہ یونیورسٹی کی مجموعی آمدن میں مجموعی طور پر 1200 فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

رانا سکندر حیات نے پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی کو انتہائی قابل اور متحرک شخصیت قرار دیتے ہوئے ان کی بہترین کارکردگی اور انتظامی اصلاحات کو زبردست الفاظ میں سراہا۔