اہم ترین

پاکپتن, اینٹی کرپشن کی ریڈ، 40 ہزار رشوت لیتے محکمہ تعلیم کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر گرفتار

پاکپتن(نامہ نگار) اینٹی کرپشن پنجاب نے کارروائی کرتے ہوئے محکمہ...

اردو یونیورسٹی کی زبوں حالی، ایچ ای سی کی اعلیٰ کمیٹی کی موجودہ قیادت تبدیل کرنے کی سفارشز

 اسلام آباد(سپیشل رپورٹر) ہائیر ایجوکیشن کمیشن  کی اعلیٰ سطح...

دنیا بھر میں 2025 کے دوران سکولوں پر حملوں میں 33 فیصد اضافہ ہوا، یونیسکو

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو...

پچیس فیصد والدین اپنے بچوں کو ڈاکٹر،13 فیصد استاد اور 12 فیصد بزنس مین بنانا چاہتے ہیں

گیلپ سروے، 25 فیصد پاکستانی والدین کی خواہش، بچہ بڑا ہو کر ڈاکٹر بنے

اسلام آباد (خبر نگار) گیلپ اینڈ گیلانی پاکستان کے نئے سروے کے مطابق پاکستانی والدین اپنے بچوں کے لیے طب (میڈیکل) کے شعبے کو سب سے پہلی ترجیح دیتے ہیں۔ اسکول جانے والے بچوں کے والدین کے قومی نمائندہ نمونے سے جب سوال پوچھا گیا کہ "آپ کا بچہ بڑا ہو کر کیا بنے گا؟” تو 25 فیصد والدین نے خواہش ظاہر کی کہ ان کا بچہ ڈاکٹر بنے۔

سروے کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ کیریئر کی دوسری بڑی ترجیح تدریس (13 فیصد) اور تیسری کاروباری شخصیت (12 فیصد) بننا ہے۔ اس کے علاوہ 11 فیصد والدین اپنے بچوں کو پاک فوج یا پولیس میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ دیگر شعبوں میں انجینئرنگ اور مذہبی تعلیم کو 5, 5 فیصد، سی ایس ایس (سرکاری افسر) کو 3 فیصد، جبکہ آئی ٹی اور کمپیوٹر فیلڈ کو صرف 1 فیصد والدین نے ترجیح دی۔ دیگر مختلف کیریئرز کو 7 فیصد جبکہ 17 فیصد نے ناواقفیت کا اظہار کیا اور 1 فیصد نے کوئی جواب نہیں دیا۔

سروے کے تجزیے کے مطابق کیریئر کی ترجیحات عمر اور علاقوں کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ کم عمر اور نوجوان والدین اپنے بچوں کے لیے طب کے شعبے کو شدید ترجیح دیتے ہیں، جبکہ بڑی عمر کے والدین اپنے بچوں کی کاروبار، عوامی خدمت اور مذہبی شعبوں میں وابستگی کے زیادہ خواہمند نظر آتے ہیں۔

یہ رپورٹ  "پاکستان میں سکول کے مناظر کو سمجھنا” کی آٹھویں سیریز کا حصہ ہے، جس کی مکمل تفصیلات گیلپ پاکستان کی  ویب سائٹ پر شائع کر دی گئی ہیں