اہم ترین

زرعی یونیورسٹی پشاور کے 113 اساتذہ اور افسروں کی اگلے گریڈ میں ترقیاں منظور

پشاور (ایجو کیشن رپورٹر)زرعی یونیورسٹی پشاور کی سنڈیکیٹ نے قواعد...

لاہور بورڈ انٹرمیڈیٹ نتائج 2026، مبشرہ اور سید محمد محی الدین 1158 نمبرز کے ساتھ باہم ٹاپر قرار

لاہور (ایجو کیشن رپرٹر) بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن...

پی این سی اے کا طلبہ کے لیے قائد اعظم کے پورٹریٹ مقابلے کا اعلان

اسلام آباد (ایجو کیشن رپورٹر) پاکستان نیشنل کونسل آف دی...

کراچی، دہلی گورنمنٹ سکول کریم آباد سیل کرنے کے خلاف طلبہ اور اساتذہ کا شدید احتجاج، تالے توڑ کراندرداخل

کراچی (اسٹاف رپورٹر): گورنمنٹ دہلی اسکول کریم آباد کو سیل کیے جانے کے خلاف پیر کے روز اساتذہ اور طلبہ نے شدید احتجاج کیا۔ اس موقع پر اشتعال اور جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے جب طلبہ نے اسکول کے تالے توڑ دیے اور عمارت کے اندر داخل ہو گئے۔

تفصیلات کے مطابق پیر کی صبح اسکول کے 1500 سے زائد طلبہ اور اساتذہ اسکول پہنچے تو عمارت سیل دیکھ کر حیران رہ گئے۔ طلبہ نے عمارت کے باہر جمع ہو کر شدید نعرے بازی کی اور احتجاجاً سڑک پر بیٹھ گئے۔ طلبہ نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور اسکول نہ کھولے جانے کی صورت میں سڑک پر ہی کلاسیں لگانے کا اعلان کرتے ہوئے سڑک پر ہی روزانہ کی اسمبلی کر ڈالی۔

اس موقع پر اسکول کے پرنسپل علی خان نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسکول میں 1500 سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں اور انہیں کسی دوسرے اسکول منتقل کرنا عملی طور پر ممکن نہیں ہے۔ انتظامی اقدام کی وجہ سے ان تمام بچوں کا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔

خبر کا پس منظر (Background):

گورنمنٹ دہلی اسکول کا تنازع عمارت کے مالکان اور محکمہ تعلیم سندھ کے درمیان طویل عرصے سے چلی آرہی قانونی جنگ کا نتیجہ ہے۔ یہ تاریخی عمارت اصل میں ‘دہلی اینگلو عربک کالج اینڈ اسکولز اولڈ بوائز ایسوسی ایشن’ کی ملکیت ہے، جسے 1970ء کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں قومی تحویل (Nationalize) میں لیا گیا تھا۔

بعد ازاں، عمارت کے مالکان نے قانونی چارہ جوئی کی جس کے نتیجے میں عدالت نے اسکول کو ڈی نیشنلائز کرنے اور قبضہ ایسوسی ایشن کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم، محکمہ تعلیم سندھ کی عدم توجہی اور گزشتہ ڈھائی دہائیوں (25 سال) سے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث یہ معاملہ لٹکا رہا۔

حالیہ دنوں میں کرایوں کی عدم ادائیگی اور عدالتی احکامات کی تعمیل کے سلسلے میں اسکول کو سیل کیا گیا، جس نے 1500 سے زائد بچوں کے تعلیمی سفر اور مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔