پشاور (نیوز رپورٹر) خیبر پختونخوا میں جاری میٹرک کے سالانہ امتحانات ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔ پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان، مردان اور دیگر اضلاع میں نویں اور دسویں جماعت کے تقریباً تمام اہم پرچے مبینہ طور پر لیک ہو چکے ہیں، جس کے سلسلے میں آج دسویں جماعت کا انگریزی کا آخری پرچہ بھی شروع ہوتے ہی سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگا۔
انتظامیہ کی خاموشی اور طلبہ کی تشویش: حیران کن طور پر پرچہ شروع ہوتے ہی اس کا حل شدہ ورژن مختلف واٹس ایپ گروپس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دستیاب تھا۔ اس صورتحال نے نہ صرف امتحانی نظام کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے بلکہ ذہین اور محنتی طلبہ کو بھی سخت پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
دوسری جانب محکمہ تعلیم اور متعلقہ تعلیمی بورڈز کے حکام اس سنگین بدانتظامی پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ پرچوں کے مسلسل لیک ہونے سے ہزاروں طلبہ کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔

