اہم ترین

خانیوال،پبلک سکول اینڈ یونیورسٹی کالج میں سائیکلنگ مقابلے

خانیوال(نمائندہ خصوصی ) پبلک سکول اینڈ یونیورسٹی کالج میں...

گرلز اسکول تربت کی طالبات کا ریڈیو پاکستان کا دورہ

تربت (نمائندہ حصوصی) گورنمنٹ گرلز ماڈل ہائی سکول تربت...

بیوٹمز سکول آف لاء میں موٹ کورٹ کا آغاز، قانونی تعلیم کا معیار بہتر بنانا ضروری ہے، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ

کوئٹہ (نمائندہ حصوصی) بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ...

کمشنر مالاکنڈکا محکمہ تعلیم میں گھوسٹ ملازمین اور غیر حاضر عملے کے خلاف سخت کارروائی کا حکم

مالاکنڈ (نمائندہ حصوصی) کمشنر مالاکنڈ ڈویژن اقبال حسین باچا...

مذاکرات کے باعث جڑواں شہروں میں تعلیمی ادارے بند،آن لائن کلاسز،جامعات اور بورڈز کےشیڈول شدہ امتحانات ملتوی

جڑواں شہروں میں تعلیمی ادارے بند: ایران امریکہ مذاکرات کے باعث جامعات میں آن لائن کلاسز کا آغاز

اسلام آباد/راولپنڈی (رپورٹ: اردو تعلیم) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے اہم سفارتی مذاکرات کے پیشِ نظر تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں۔ سکیورٹی خدشات اور شہر میں ٹریفک کی ممکنہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے جامعات نے تدریسی عمل جاری رکھنے کے لیے آن لائن کلاسز کا اعلان کر دیا ہے۔

سیکیورٹی اقدامات اور تعطیلات: ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے ہائی پروفائل مذاکرات کے باعث شہر کے مختلف حصوں، بالخصوص ریڈ زون اور ملحقہ علاقوں میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ اسی تناظر میں وفاقی نظامت تعلیمات اور راولپنڈی انتظامیہ نے تعلیمی اداروں میں تعطیل کا فیصلہ کیا تاکہ طلبہ اور اساتذہ کو آمد و رفت میں کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

جامعات کا فیصلہ: قائد اعظم یونیورسٹی، نسٹ (NUST)، بحریہ یونیورسٹی اور ایئر یونیورسٹی سمیت جڑواں شہروں کی بڑی جامعات نے نوٹیفیکیشن جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیمپس میں تدریسی سرگرمیاں معطل رہیں گی، تاہم طلبہ کا تعلیمی حرج بچانے کے لیے تمام لیکچرز آن لائن منتقل کر دیے گئے ہیں۔

امتحانات پر اثرات: مذاکرات کے دوران ہونے والی اس بندش کے باعث بعض جامعات اور بورڈز نے اپنے شیڈول شدہ امتحانات بھی ملتوی کر دیے ہیں، جن کے لیے نئی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

انتظامیہ کا موقف: ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات صرف حفاظتی نقطہ نظر اور بین الاقوامی وفود کی نقل و حرکت کو محفوظ بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔ مذاکرات کے اختتام اور سکیورٹی کلیئرنس ملتے ہی تمام ادارے دوبارہ کھول دیے جائیں گے۔