Become a member

Get the best offers and updates relating to Liberty Case News.

― Advertisement ―

spot_img
Homeتازہ ترینگومل یونیورسٹی، تدریسی اسامیوں پر حالیہ بھرتیوں کا عمل تنازع کا شکار

گومل یونیورسٹی، تدریسی اسامیوں پر حالیہ بھرتیوں کا عمل تنازع کا شکار

ڈیرہ اسماعیل خان (نامہ نگار)گومل یونیورسٹی کے مختلف تدریسی عہدوں کے لیے ہونے والے حالیہ سلیکشن بورڈ کے عمل پر سنگین اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ متاثرہ پی ایچ ڈی اساتذہ اور امیدواروں نے بھرتیوں کے اس عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں، میرٹ کی خلاف ورزی اور اقربا پروری کے الزامات عائد کرتے ہوئے اعلیٰ سطح پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ دوسری جانب گومل یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن (گواسا) نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔

متاثرہ امیدواروں کی جانب سے جاری کردہ آٹھ صفحات پر مشتمل ایک کھلے خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ لیکچرار، اسسٹنٹ پروفیسر، ایسوسی ایٹ پروفیسر اور پروفیسر کی آسامیوں پر تعنیاتیوں کے دوران قواعد و ضوابط اور میرٹ کو نظر انداز کیا گیا اور اہل امیدواروں کے بجائے من پسند افراد کو ترجیح دی گئی۔ متاثرہ امیدواروں کے مطابق، انکوائری رپورٹ میں اسکریننگ ٹیسٹ، کال لیٹرز کے اجراء، ڈیمانسٹریشن نمبرز، میرٹ لسٹوں کی عدم اشاعت اور غیر متعلقہ ماہرین کی بطور سبجیکٹ ایکسپرٹ شمولیت جیسے معاملات کا ذکر کیا گیا، لیکن ان بے ضابطگیوں کے ذمہ دار افراد کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کی سفارش نہیں کی گئی۔

یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن کا مؤقف

دوسری جانب، گومل یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر اور سنڈیکیٹ ممبر پروفیسر نور محمد نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان اعتراضات کا جواب دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامیات کے پروفیسر اور لاء کالج کے ایسوسی ایٹ پروفیسر کے کیسز کو ضابطے کے مطابق دوبارہ دیکھا جا رہا ہے۔

پروفیسر نور محمد نے واضح کیا کہ ان تمام معاملات کو سلیکشن بورڈ اور سنڈیکیٹ کے فورمز پر زیرِ غور لایا جائے گا، جس کے بعد انہیں حکومت اور متعلقہ کمیٹی کے سامنے بھی پیش کیا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یونیورسٹی میں بھرتیوں اور ترقیوں کے حوالے سے لگائے گئے تمام الزامات محض افواہیں ہیں اور ان میں کوئی صداقت نہیں، تمام عمل حقائق اور مروجہ قوانین کے مطابق پورا کیا گیا ہے