اہم ترین

طلبہ حقوق کے لیے اسلامی جمعیت طلبہ کا رحیم یار خان سے لاہور ‘روڈ کارواں’ کا اعلان

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر) اسلامی جمعیت طلبہ تنظیم نے 9 نومبر...

کراچی, فرسٹ ایئر سالانہ نتائج 2026 کا نئے گریڈنگ سسٹم کے تحت اعلان

کراچی (ایجوکیشن رپورٹر) اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے چیئرمین...

کراچی یونیورسٹی,مستحق طلبہ اور فیکلٹی آف آرٹس کے لیے 5 کروڑ کے اینڈومنٹ فنڈ کا قیام

کراچی(ایجوکیشن رپورٹر) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر...

طلبہ میں سائنسی سوچ کےفروغ کیلئے سندھ میں ساڑھے 8 ہزار سائنس اساتذہ بھرتی کرنے کا اعلان

کراچی(ایجوکیشن رپورٹر) سندھ میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، آرٹس اور...

ایم بی بی ایس میں سیکنڈ ڈویژن ہولڈرز بھی سرکاری یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر بننے کے لیےاہل قرار،طبی و تعلیمی حلقوں کی شدید تنقید

لاہور ( تعلیمی رپورٹر)

سرکاری میڈیکل یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی تقرری کے لیے نیا اہلیت کا معیار مقرر کر دیا گیا ہے، جس کے تحت عمر، تدریسی تجربے اور تعلیمی قابلیت سے متعلق نئی شرائط متعارف کرائی گئی ہیں۔ تاہم، ان نئے قواعد و ضوابط کے سامنے آتے ہی مختلف حلقوں کی جانب سے اس پر سخت تنقید اور بحث کا آغاز ہو گیا ہے، کیونکہ بعض شقوں کو میرٹ کے اصولوں کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔

سیکنڈ ڈویژن پر وائس چانسلرشپ؟

نئے مجوزہ معیار کے مطابق، جہاں ایک طرف یہ شرط رکھی گئی ہے کہ امیدوار کم از کم 10 سال بطور پروفیسر خدمات انجام دے چکا ہو اور اس کے پاس پوسٹ گریجویشن یا پی ایچ ڈی ڈگری کے ساتھ کم از کم 20 تحقیقی اشاعتیں (پبلیکیشنز) ہونا لازمی ہیں، وہیں دوسری طرف بنیادی تعلیمی قابلیت میں غیر معمولی نرمی کر دی گئی ہے۔ قواعد کے تحت اب ایم بی بی ایس (MBBS) میں سیکنڈ ڈویژن سے کامیاب ہونے والے امیدوار بھی اس اعلیٰ ترین تعلیمی عہدے کے لیے اہل قرار پائیں گے۔ ماہرینِ تعلیم نے اس پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو طالب علم سیکنڈ ڈویژن پاس ہو، وہ ریسرچ اور میڈیکل جامعات کی سربراہی کیسے کر سکتا ہے؟

70 برس عمر کی حد، مگر فٹنس گائیڈ لائنز غائب

دستاویزات کے مطابق، وائس چانسلر کے عہدے کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 70 برس مقرر کی گئی ہے۔ تعلیمی حلقوں میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ عمر کی حد اتنی زیادہ رکھنے کے باوجود، دستاویزات میں امیدوار کی جسمانی یا ذہنی فٹنس سے متعلق کوئی واضح شرط یا میڈیکل چیک اپ کا معیار شامل نہیں کیا گیا۔ 70 برس کی عمر میں کسی بڑے تعلیمی و انتظامی ادارے کو چلانے کے لیے ذہنی و جسمانی چستی ناگزیر ہوتی ہے، جس پر پالیسی سازوں نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

90 فیصد میرٹ بمقابلہ سیکنڈ ڈویژن

یہ نئی پیش رفت اور حیران کن قواعد ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ملک کی سرکاری میڈیکل یونیورسٹیوں اور کالجوں میں عام طلبہ کے داخلوں کے لیے عمومی طور پر 90 فیصد سے زائد کا کڑا میرٹ دیکھا جاتا ہے۔ اس تضاد پر مختلف حلقوں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے کہ جن جامعات میں داخلے کے لیے طلبہ کو دن رات ایک کرنا پڑتا ہے، ان کے سربراہان کی تقرری کے لیے تعلیمی معیار کو اس حد تک نیچے کیوں گرایا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان قواعد سے نہ صرف اعلیٰ تعلیم کا معیار متاثر ہوگا بلکہ اقربا پروری کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔