اہم ترین

خانیوال،پبلک سکول اینڈ یونیورسٹی کالج میں سائیکلنگ مقابلے

خانیوال(نمائندہ خصوصی ) پبلک سکول اینڈ یونیورسٹی کالج میں...

گرلز اسکول تربت کی طالبات کا ریڈیو پاکستان کا دورہ

تربت (نمائندہ حصوصی) گورنمنٹ گرلز ماڈل ہائی سکول تربت...

بیوٹمز سکول آف لاء میں موٹ کورٹ کا آغاز، قانونی تعلیم کا معیار بہتر بنانا ضروری ہے، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ

کوئٹہ (نمائندہ حصوصی) بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ...

کمشنر مالاکنڈکا محکمہ تعلیم میں گھوسٹ ملازمین اور غیر حاضر عملے کے خلاف سخت کارروائی کا حکم

مالاکنڈ (نمائندہ حصوصی) کمشنر مالاکنڈ ڈویژن اقبال حسین باچا...

ڈیرہ اسماعیل خان, تعلیمی اداروں میں عملے کی عارضی ایڈجسٹمنٹ منسوخ

ڈیرہ اسماعیل خان (نمایندہ اردہ تعلیم ڈاٹ کام) تعلیمی...

اردو یونیورسٹی ،اساتذہ کا احتجاج، سیکیورٹی انچارج حملہ کیس میں نوٹسز انتقامی کارروائی قرار

کراچی (نیوز ڈیسک) وفاقی اردو یونیورسٹی گلشن کیمپس کے سیکیورٹی انچارج پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے معاملے میں پولیس نے جامعہ کے 7 پروفیسرز کو باضابطہ نوٹسز جاری کر دیے ہیں، جس کے بعد اساتذہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کارروائی کو انتقامی عمل قرار دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، پولیس کا کہنا ہے کہ پروفیسرز کو واقعے سے متعلق اپنا بیان ریکارڈ کروانے کے لیے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 160 کے تحت نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔ تاہم پولیس نے وضاحت کی ہے کہ درج مقدمے میں کسی بھی پروفیسر کو نامزد نہیں کیا گیا ہے۔

دوسری جانب، سیکیورٹی انچارج پر حملے کے معاملے میں 7 پروفیسرز کو شاملِ تفتیش کیے جانے پر جامعہ کے اساتذہ میں شدید غم و غصہ پھیل گیا اور انہوں نے اس اقدام کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ جن 7 پروفیسرز کو نوٹسز بھیجے گئے ہیں، وہ دونوں کیمپسز کی انجمنِ اساتذہ کے عہدیدار ہیں اور پچھلے کئی ماہ سے تنخواہوں، ہاؤس سیلنگ اور پنشن کے حصول کے لیے پرامن تحریک چلا رہے ہیں۔

احتجاجی اساتذہ نے موقف اختیار کیا کہ اپنے جائز حقوق کی آواز اٹھانے والے اساتذہ کو من گھڑت انداز میں پھنسانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ 27 ماہ کی زیرِ التوا ہاؤس سیلنگ، بروقت تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کے لیے ان کی جدوجہد اور احتجاجی تحریک مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گی۔