لاہور(کورٹ رپورٹر)اوکاڑہ یونیورسٹی میں مبینہ ہراسانی، بدنامی، اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر یونیورسٹی آف اوکاڑہ کی استاد ڈاکٹر شہلا ہنی کی جانب سے دائر کردہ فوجداری استغاثہ (Criminal Complaint) میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ کیس کی سماعت کے دوران مسلسل تین نوٹسز جاری ہونے کے بعد آج وائس چانسلر یونیورسٹی آف اوکاڑہ ڈاکٹر ساجد مبین اور پی آر او شرجیل اپنے وکیل کے ہمراہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالغفار کی عدالت میں پیش ہوئے اور اپنی حاضری لگوائی۔
استغاثہ کے اہم نکات اور الزامات:
متاثرہ خاتون پروفیسر نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 499، 500، 501، 502 اور 34 کے تحت عدالت سے رجوع کر رکھا ہے۔ دائر کردہ درخواست کے متن کے مطابق:
ہراسانی اور انتقامی کارروائیاں: درخواست گزار کا الزام ہے کہ غیر قانونی و ناپسندیدہ مطالبات تسلیم نہ کرنے پر وائس چانسلر کی جانب سے مبینہ طور پر ہراساں کیا گیا، تنخواہ اور ٹی ٹی ایس مراعات روکی گئیں، اور ترقی کے عمل میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔
پوسٹ ڈاکٹریٹ اور جوائننگ کا تنازع: ڈاکٹر شہلا ہنی کے مطابق وہ ایچ ای سی (HEC) اور یونیورسٹی سے این او سی (NOC) و باقاعدہ رخصت منظور کروا کر پوسٹ ڈاکٹریٹ کے لیے بیرونِ ملک گئی تھیں۔ تاہم، واپس آمد پر 25 مارچ 2026 کو جمع کرائی گئی جوائننگ رپورٹ کو 26 مارچ کو بلا جواز رد کر دیا گیا۔
کردار کشی کی مہم: درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ یونیورسٹی کی سرکاری ویب سائٹ، سوشل میڈیا صفحات اور مختلف ذرائع ابلاغ پر درخواست گزار کو "بلیک میلر” اور غیر حاضر قرار دے کر ان کی کردار کشی کی گئی اور خفیہ رپورٹ بھی عام کی گئی۔
عدالت سے استدعا:
ڈاکٹر شہلا ہنی نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ملزمان کے خلاف دفعہ 500 پی پی سی کے تحت کارروائی کی جائے، انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔