لاہور تعلیمی بورڈ کے افسران کی نالائقی, میٹرک امتحانات کے دوران اسلامیات لازمی اور فزکس کے پریکٹیکل غلط شفٹوں میں کھولنے کا انکشاف
فرسٹ شفٹ کا پیپر سیکنڈ اور سیکنڈ شفٹ کا پرچہ فرسٹ شفٹ میں کھل گیا،بورڈ حکام نے اسکینڈل پر پردہ ڈال کر تینوں واقعات کی انکوائریاں ‘دبا’ لیں؛ وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس کا مطالبہ
لاہور (سپیشل رپورٹر)بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن لاہور کے افسران اور امتحانی عملے کی ایک بار پھر سنگین نالائقی اور غیر ذمہ داری سامنے آئی ہے۔میٹرک امتحانات 2026ء کے دوران دو امتحانی مراکز پر “اسلامیات لازمی” کا پرچہ جبکہ ایک امتحانی مرکز پر “فزکس” کا پریکٹیکل امتحان وقت سے پہلے اور غلط شفٹ میں اوپن کرنے کا اسکینڈل بے نقاب ہوا ہے۔ انتہائی تشویش ناک امر یہ ہے کہ تعلیمی بورڈ کے اعلیٰ حکام نے اپنی نااہلی چھپانے کے لیے میٹرک امتحانات میں پیش آنے والے ان تینوں سنگین واقعات پر خاموشی اختیار کرتے ہوئے ان کی انکوائریاں بھی مبینہ طور پر دبا لی ہیں
ذرائع کے مطابق امتحانی قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑاتے ہوئے میٹرک کے فرسٹ شفٹ (صبح) میں لیا جانے والا پرچہ سیکنڈ شفٹ (شام) میں کھول دیا گیا، جبکہ سیکنڈ شفٹ کے لیے مخصوص پرچہ اور فزکس کا پریکٹیکل فرسٹ شفٹ میں کھول دیا گیا۔ اس سنگین غلطی کے باعث امتحانی رازداری اور بورڈ کے پورے مانیٹرنگ سسٹم پر سوالیہ نشان کھڑے ہو گئے ہیں۔
ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ میٹرک کے امتحانات کے دوران اسلامیات لازمی کا پرچہ جن دو نامور امتحانی مراکز پر غلط وقت پر اوپن ہوا، ان میں درج ذیل اسکول شامل ہیں گورنمنٹ کمپری ہینسیو ہائی اسکول، وحدت روڈ، لاہور اورالائیڈ اسکول، شاہدرہ کیمپس، لاہور
ان دونوں مراکز کے علاوہ میٹرک فزکس کا پریکٹیکل بھی ایک امتحانی مرکز پر اسی طرح کی مجرمانہ غفلت کا شکار ہوا، جہاں سیکنڈ شفٹ کا مٹیریل فرسٹ شفٹ کے طلبہ کے سامنے کھول دیا گیا۔تعلیمی حلقوں میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے
کہ میٹرک جیسے اہم امتحان میں اتنا بڑا امتحانی حادثہ پیش آنے کے باوجود لاہور بورڈ کے متعلقہ حکام نے تادیبی کارروائی کرنے کے بجائے معاملے کو یکسر دبا دیا ہے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ رولز کے مطابق اس نوعیت کے واقعے پر فوری ہائی لیول انکوائری کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے اور ذمہ داران کو معطل کیا جاتا ہے، لیکن بورڈ افسران نے اپنی پوزیشنز بچانے کے لیے فائلیں دبا کر پورے واقعے کو پبلک اور میڈیا کی نظروں سے اوجھل رکھا ہے۔
میٹرک امتحانات میں ہونے والی اس سنگین غفلت اور بورڈ حکام کے جانبدارانہ رویے پر تعلیمی حلقوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے اپیل کی ہے کہ وہ لاہور تعلیمی بورڈ میں ہونے والی اس بڑی بدانتظامی کا فوری نوٹس لیں۔ تعلیمی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ امتحانی پرچوں کی رازداری اور تقدس کو پامال کرنے والے متعلقہ افسران اور امتحانی عملے کے خلاف سخت قانونی و تادیبی کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں طلبہ کے مستقبل کے ساتھ ایسا کھلواڑ نہ ہو سکے۔

