اہم ترین

انٹرمیڈیٹ نتائج، طلبہ کا پشاور بورڈ کے خلاف احتجاج، یونیورسٹی روڈ بند

پشاور (نامہ نگار) انٹرمیڈیٹ کے حالیہ نتائج کے خلاف...

پنجاب میں ایس ٹی آئیز کی دوبارہ بھرتی اور موجودہ کی توسیع کا فیصلہ

لاہور(ایجو کیشن رپورٹر) محکمہ اسکول ایجوکیشن پنجاب نے صوبے...

انٹر میڈیٹ میں کپس ایجوکیشن سسٹم کی شاندار کامیابی، 73 ٹاپ پوزیشنز حاصل کر لیں

لاہور (پریس ریلیز/خصوصی رپورٹ) پاکستان بھر میں تعلیمی کامیابیوں...

وزیرِ تعلیم کے حکم کے باوجود دو ماہ بعد بھی اسلامیہ کالج میں بائیومیٹرک سسٹم اپریشنل نہ ہو سکا

پشاور (سپیشل رپورٹر) تاریخی تعلیمی ادارے اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور...

تعلیمی بورڈ ڈی جی خان, نہم نتائج میں سرکاری سکولوں میں 5 سال کا بدترین نتیجہ، متعدد سکولوں کے تمام طلبہ فیل

ڈیرہ غازی خان ( بیورو چیف)
تعلیمی بورڈ ڈیرہ غازی خان کے زیر اہتمام سالانہ امتحانات 2026ء کے نہم کے نتائج میں سرکاری سکولوں کا تعلیمی معیار اور طلبہ کی کارکردگی انتہائی تشویشناک حد تک گر گئی ہے۔ روان سال بورڈ کے تحت مجموعی طور پر پاس ہونے کی شرح 48.18 فیصد رہی، جو کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران سب سے کم پاس فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ بالخصوص سرکاری سکولوں میں سائنس گروپ کے طلبہ کا نتیجہ انتہائی مایوس کن رہا ہے، جہاں متعدد سکولوں کے درجنوں طلبہ میں سے ایک بھی طالب علم امتحان میں کامیابی حاصل نہ کر سکا۔

سرکاری سکولوں کے صفر فیصد نتائج
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق

گورنمنٹ ہائی سکول آرا جعفر: سائنس گروپ کے 24 طلبہ امتحان میں شریک ہوئے لیکن تمام کے تمام ناکام رہے اور نتیجہ صفر رہا۔

گورنمنٹ ہائی سکول گڑی ساؤتھ: 11 طلبہ امتحان میں بیٹھے اور تمام فیل ہو گئے۔

گورنمنٹ گرلز ہائی سکول چک نمبر 344 ٹی ڈی اے چوبارہ: 12 طلبہ نے امتحان دیا لیکن ایک بھی طالب علم پاس نہ ہو سکا۔

گورنمنٹ ہائی سکول طبی نظام (مظفر گڑھ): 18 طلبہ نے امتحان میں شرکت کی اور یہاں بھی کامیابی کا تناسب صفر فیصد رہا۔

گزشتہ 5 سالوں کا موازنہ
تعلیمی بورڈ ڈیرہ غازی خان کے گزشتہ پانچ سالہ نتائج کی شرح درج ذیل رہی

کامیابی کی شرح

اعداد و شمار کے مطابق سال 2025ء (57.34 فیصد) کے مقابلے میں سال 2026ء کے نتائج میں کی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
تعلیمی حلقوں کی تشویش اور مطالبہ<
بعض سرکاری سکولوں کے نتائج صفر فیصد آنے پر تعلیمی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر اصلاحی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ماہرینِ تعلیم کے مطابق بالخصوص سائنس گروپ میں کمزور نتائج کی وجوہات جاننے کے لیے اساتذہ کی دستیابی، تدریسی سہولیات، طلبہ کی حاضری اور امتحانی تیاری کے نظام کا ازسرنو جائزہ لینا ضروری ہے۔

محکمہ تعلیم اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ سکولوں کی سطح پر کمزور طلبہ کی نشاندہی، اساتذہ کی کارکردگی کی موثر نگرانی اور اضافی تعلیمی معاونت کی فراہمی کو بلا تاخیر یقینی بنایا جائے