اہم ترین

پاکپتن, اینٹی کرپشن کی ریڈ، 40 ہزار رشوت لیتے محکمہ تعلیم کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر گرفتار

پاکپتن(نامہ نگار) اینٹی کرپشن پنجاب نے کارروائی کرتے ہوئے محکمہ...

اردو یونیورسٹی کی زبوں حالی، ایچ ای سی کی اعلیٰ کمیٹی کی موجودہ قیادت تبدیل کرنے کی سفارش

 اسلام آباد(سپیشل رپورٹر) ہائیر ایجوکیشن کمیشن  کی اعلیٰ سطح...

دنیا بھر میں 2025 کے دوران سکولوں پر حملوں میں 33 فیصد اضافہ ہوا، یونیسکو

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو...

جامعات میں خودساختہ تعیناتیوں پر ایکشن؛ وی سیز کے اختیارات محدود

سندھ حکومت کا جامعات میں خودساختہ تعیناتیوں پر بڑا ایکشن؛ وی سیز کے اختیارات محدود

کراچی (سٹاف رپورٹر): حکومتِ سندھ نے صوبے کی سرکاری جامعات میں پرو وائس چانسلرز اور قائمقام وی سیز کی تعیناتیوں کے حوالے سے سخت پالیسی نافذ کرتے ہوئے وائس چانسلرز کے صوابدیدی اختیارات ختم کر دیے ہیں۔ وزیر جامعات و بورڈز سندھ، محمد اسماعیل راہو نے اعلان کیا ہے کہ اب کوئی بھی وائس چانسلر اپنی مرضی سے کسی فرد کو پرو وائس چانسلر کا چارج تفویض کرنے کا مجاز نہیں ہوگا۔

نئے ضابطہ اخلاق کے نمایاں نکات:

  • وزیراعلیٰ کی پیشگی منظوری: ہر قسم کی تعیناتی کے لیے کنٹرولنگ اتھارٹی یعنی وزیراعلیٰ سندھ کی پیشگی منظوری کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
  • سینئر پروفیسرز کا پینل: تمام وائس چانسلرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خالی اسامیوں کے لیے تین سینئر پروفیسرز کا پینل ان کے مکمل ریکارڈ کے ساتھ سندھ حکومت کو ارسال کریں۔
  • غیر قانونی تعیناتیوں کی منسوخی: وزیراعلیٰ کی منظوری کے بغیر کی جانے والی تمام تقرریاں "غیر قانونی” تصور ہوں گی جنہیں حکومت کسی بھی وقت منسوخ کرنے کا حق رکھتی ہے۔

اقدام کا مقصد: وزیر جامعات محمد اسماعیل راہو کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد جامعات کے انتظامی امور میں شفافیت لانا، اقربا پروری کا خاتمہ کرنا اور اعلیٰ عہدوں پر صرف میرٹ کے مطابق تقرریوں کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط اور قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔