پیرس (مانیٹرنگ ڈیسک)فرانس میں ابتر تعلیمی نظام، اساتذہ کی شدید کمی اور نئی داخلہ پالیسی کے خلاف طلبہ کا احتجاج چھٹے روز بھی شدت کے ساتھ جاری ہے، جب کہ مظاہروں نے شدید پُرتشدد رخ اختیار کر لیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانس بھر میں ہزاروں طلبہ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ مظاہروں کے دوران مشتعل طلبہ نے جگہ جگہ کوڑے دانوں کو آگ لگا دی، پولیس کی رکاوٹیں توڑ ڈالیں اور سڑکوں پر توڑ پھوڑ کی۔ متعدد مقامات پر طلبہ اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں بھی ہوئیں، جہاں مظاہرین نے پولیس پر فائر کریکرز (پٹاخے) پھینکے۔
میرپور بورڈ، نویں جماعت کے نتائج، 101سرکاری سکولوں کا نتیجہ صفر
پولیس کی جانب سے صورتحال پر قابو پانے اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شدید آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں 1,747 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ فرانسیسی وزیرِ داخلہ کے مطابق پیر سے شروع ہونے والے اس احتجاجی سلسلے میں اب تک مجموعی طور پر 5 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
تعلیمی نظام کی زبوں حالی کے خلاف طلبہ کے اس مسلسل احتجاج کے باعث تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں؛ گزشتہ روز 400 سے زائد تعلیمی ادارے مفلوج رہے جبکہ جمعے کے روز ملک بھر میں 700 سے زائد اسکول مکمل طور پر بند رہے۔