پشاور (کورٹ رپورٹر) پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس نعیم انور اور جسٹس کامران حیات میانخیل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے خیبر پختونخوا کے مختلف سرکاری جامعات میں نگران حکومت کے دور میں ہونے والی ٹیچنگ اور انتظامی سٹاف کی برطرفی کے خلاف دائر متعدد رٹ درخواستیں منظور کر لیں اور صوبائی حکومت کی جانب سے برطرفی کے لیے جاری مراسلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔
عدالتی کارروائی اور وکلاء کے دلائل
سماعت کے دوران درخواست گزاروں کی جانب سے شائل احمد بٹ ایڈووکیٹ، ڈاکٹر کول، جہانزیب محسود، شمس الہادی اور افضل ہادی ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ
صوبائی حکومت نے ملازمین کی برطرفی سے متعلق 2025 کا ایک قانون پاس کیا جس کے تحت نگران دور کی بھرتیوں کو غیر قانونی قرار دے کر تمام افراد کو برطرف کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
کابینہ کمیٹی کے فیصلہ کے بعد اگست 2025 میں ایک اجلاس اور ستمبر 2025 میں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے تمام جامعات کو مراسلہ بھیجا گیا تھا جس میں نگران دور کے ٹیچنگ و انتظامی افسران کو برخاست کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
نگران حکومت کے پاس ان تقریوں کا کوئی اختیار نہیں تھا لیکن صوبائی حکومت نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا کیونکہ جامعات صوبائی حکومت کے زیرِ انتظام ادارے نہیں ہیں بلکہ وہ خودمختار ادارے ہیں اور اپنے قانون، سینڈیکیٹ اور سینیٹ کے تحت چلتے ہیں۔
نگران حکومت کے دور میں ہونے والی یہ بھرتی سلیکشن بورڈز کے ذریعے کئی سالوں سے زیرِ التوا تھیں اور عمل پہلے ہی مکمل ہو چکا تھا، اس لیے برطرفی کا یہ قانون خود مختار جامعات پر لاگو نہیں ہوتا۔
40 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ
جسٹس کامران حیات میانخیل کے تحریر کردہ 40 صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ
صوبائی اختیارات کی حدود نگران حکومت کے فیصلوں کے حوالے سے صوبائی حکومت کا پاس کردہ قانون صرف ان کے اپنے زیرِ انتظام محکموں پر لاگو ہوتا ہے، خود مختار جامعات کے اپنے ایکٹ اور اپنے سلیکشن بورڈ ہوتے ہیں۔
پیپلز پارٹی رٹ کا حوالہ عدالت نے پاکستان پیپلز پارٹی کی اس رٹ کا بھی حوالہ دیا جس میں نگران حکومت کی جانب سے کی گئی برطرفیوں کو چیلنج کیا گیا تھا اور عدالت نے قرار دیا تھا کہ نگران حکومت کا کام صرف شفاف الیکشن اور روزمرہ کے امور کی دیکھ بھال ہے، نہ کہ پالیسی سازی۔
برطرفیوں اور مراسلے کو کالعدم قرار دیا عدالت نے حکومت کی جانب سے جاری تمام نوٹسز اور مراسلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ برطرف کیے گئے تمام ملازمین کو پچھلی تاریخوں سے بحال کر کے ان کی تنخواہیں اور دیگر مراعات فوری طور پر ادا کی جائیں۔




