اہم ترین

راولپنڈی، نجی سکول میں 8 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی، حقائق چھپانے کی کوشش, ویڈیو ڈیلیٹ کر دی

راولپنڈی (کرائم رپورٹر)راولپنڈی کے علاقے تھانہ دھمیال کی حدود...

جامعہ کراچی، حکومتِ سندھ کا ہاؤس سیلنگ سمری پر اعتراض، یونیورسٹی کا ایک ماہ کی رقم خود ادا کرنے پر غور

کراچی ( ایجو کیشن رپورٹر)
حکومتِ سندھ نے جامعہ کراچی کے تدریسی اور غیر تدریسی ملازمین کے لیے ہاؤس سیلنگ کی ادائیگی سے متعلق بھیجی گئی سمری پر اعتراضات عائد کرتے ہوئے اسے واپس کر دیا ہے

ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت نے موقف اختیار کیا ہے کہ دیگر جامعات کی طرح اگر جامعہ کراچی بھی ہاؤس سیلنگ کی ادائیگی اپنے ذاتی اور مالی وسائل سے کرے تو حکومتِ سندھ کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا حکومتِ سندھ کی جانب سے خصوصی فنڈز کی فراہمی سے معذرت کے بعد، جامعہ کراچی کی انتظامیہ فی الحال ایک ماہ کی ہاؤس سیلنگ رواں ماہ کی تنخواہ کے ساتھ ادا کرنے پر غور کر رہی ہے

اخراجات اور فنڈز کا تخمینہ
ہاؤس سیلنگ کی مد میں مجموعی طور پر 4 کروڑ روپے سے زائد کی رقم درکار ہوگی۔ چونکہ اس مد میں کوئی مخصوص فنڈ دستیاب نہیں ہے، اس لیے انتظامیہ درج ذیل میں سے کسی ایک ذرائع سے رقم کی فراہمی پر غور کر رہی ہے

وی سی اوکاڑہ یونیورسٹی اور پی آر او کے خلاف 1 ارب ہرجانے کے کیس کی سماعت دونوں کو مچلکے جمع کرانے کی ہدایت

سندھ ایچ ای سی کی جانب سے ملنے والی سالانہ غیر ترقیاتی گرانٹ

فیڈرل ایچ ای سی کی غیر ترقیاتی گرانٹ

سندھ ایچ ای سی کی گرانٹ سے قائم کردہ اینڈوومنٹ فنڈ

تاہم، انتظامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے خصوصی گرانٹ نہ ملنے کی صورت میں یہ سلسلہ زیادہ عرصے تک جاری رکھنا ممکن نہیں ہوگا<

محکمہ خزانہ کا موقف
محکمہ خزانہ سندھ نے واضح کیا ہے کہ صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت کی ہاؤس سیلنگ پالیسی کو اختیار (Adopt) نہیں کیا ہے
۔ جن دیگر جامعات نے اپنے ملازمین کو یہ سہولت دی ہے، انہوں نے اپنے اندرونی وسائل کا استعمال کیا ہے

انتظامیہ کا ردِعمل اور پس منظر
اطلاعات کے مطابق جامعہ کراچی کے قائم مقام وائس چانسلر کی جانب سے حکومت کے اعتراضات کا جوابی موقف تیار کیا جا رہا ہے جب اس سلسلے میں قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر طفیل احمد سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے کوئی مؤقف دینے سے گریز کیا

یاد رہے کہ ہاؤس سیلنگ کے عدم اجرا پر انجمن اساتذہ جامعہ کراچی نے رواں برس مئی میں تقریباً 40 روز تک ہڑتال کی تھی، جس میں بعد ازاں غیر تدریسی ملازمین بھی شامل ہو گئے تھے۔ علاوہ ازیں، انجمن اساتذہ کے سالانہ انتخابات بھی اسی ماہ (نومبر) میں متوقع ہیں