اہم ترین

طلبہ حقوق کے لیے اسلامی جمعیت طلبہ کا رحیم یار خان سے لاہور ‘روڈ کارواں’ کا اعلان

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر) اسلامی جمعیت طلبہ تنظیم نے 9 نومبر...

کراچی, فرسٹ ایئر سالانہ نتائج 2026 کا نئے گریڈنگ سسٹم کے تحت اعلان

کراچی (ایجوکیشن رپورٹر) اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے چیئرمین...

کراچی یونیورسٹی,مستحق طلبہ اور فیکلٹی آف آرٹس کے لیے 5 کروڑ کے اینڈومنٹ فنڈ کا قیام

کراچی(ایجوکیشن رپورٹر) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر...

طلبہ میں سائنسی سوچ کےفروغ کیلئے سندھ میں ساڑھے 8 ہزار سائنس اساتذہ بھرتی کرنے کا اعلان

کراچی(ایجوکیشن رپورٹر) سندھ میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، آرٹس اور...

جامعہ کراچی میں امتحانی بائیکاٹ، طلبہ کے والدین کا وزیراعلیٰ سندھ اور حکام کو کھلا خط، فوری مداخلت کا مطالبہ

اساتذہ اور ملازمین کی ہڑتال سے ہزاروں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا، خاندان ذہنی کرب کا شکار، سوشل میڈیا پر خط وائرل

کراچی (سٹاف رپورٹر) جامعہ کراچی میں اساتذہ اور ملازمین کی جانب سے جاری امتحانی بائیکاٹ اور ہڑتال کے باعث پیدا ہونے والے شدید تعلیمی بحران پر طلبہ کے والدین اور اہلِ خانہ نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ والدین کی جانب سے وزیراعلیٰ سندھ، وزیر جامعات و بورڈز اور دیگر متعلقہ حکام کو ایک کھلا خط ارسال کیا گیا ہے، جو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ خط میں حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مداخلت کر کے جامعہ میں جاری تعلیمی تعطل کو فوری طور پر ختم کروائیں۔

طلبہ اور خاندان شدید ذہنی دباؤ کا شکار

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے اس کھلے خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اساتذہ اور ملازمین کی جانب سے سیمسٹر امتحانات کے مسلسل بائیکاٹ کے باعث طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہو کر رہ گئی ہیں۔ امتحانات کے اس التوا نے نہ صرف ہزاروں طلبہ کے مستقبل کے حوالے سے شدید خدشات اور غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، بلکہ ان کے خاندان بھی اس صورتحال کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ اور کرب کا سامنا کر رہے ہیں۔

ماضی کے نقصانات کا حوالہ

خط میں والدین نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ طلبہ پہلے ہی ماضی میں کورونا وبا اور اس کے بعد نافذ ہونے والے ہائبرڈ تدریسی نظام (آن لائن اور فزیکل کلاسز) کے باعث شدید تعلیمی مشکلات اور نقصانات سے دوچار رہے ہیں۔ اب جب تعلیمی عمل پٹری پر لوٹ رہا تھا، تو اساتذہ کی اس ہڑتال نے طلبہ کے قیمتی وقت کو ایک بار پھر داؤ پر لگا دیا ہے۔

والدین نے اعلیٰ حکام سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو مزید برباد ہونے سے بچانے کے لیے اس دیرینہ ہڑتال کا کوئی قانونی اور فوری حل نکالیں تاکہ امتحانات کا دوبارہ انعقاد ممکن ہو سکے۔