Become a member

Get the best offers and updates relating to Liberty Case News.

― Advertisement ―

spot_img
Homeایکسکلوسیو نیوزجامعہ کراچی میں ڈین آف لاء کی تقرری میں سنگین بے ضابطگیاں،...

جامعہ کراچی میں ڈین آف لاء کی تقرری میں سنگین بے ضابطگیاں، ایکٹ اور قواعد کی دھجیاں اڑا دی گئیں

وزیر اعلیٰ ہاؤس کا وائس چانسلر کے پینل کو مسترد کر کے من پسند شخصیت کو ڈین بنانے کا انکشاف

بیرسٹر سرفراز میتلو کا جامعہ کراچی یا لاء ایجوکیشن سے کوئی تعلق نہیں، تقرری بدنیتی پر مبنی قرار

سندھ ہائیکورٹ پہلے بھی ڈین فیکلٹی آف سائنس کی غیر قانونی تقرری کالعدم قرار دے چکی ہے

کراچی (نمائندہ اردو تعلیم) محکمہ بورڈز و جامعات کی جانب سے جامعہ کراچی کے ڈین آف لاء کی تقرری میں ایکٹ اور قواعد کی سنگین خلاف ورزی کا انکشاف ہوا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جامعہ کراچی نے ڈین آف لاء بیرسٹر ذیشان ایدھی کے مستعفی ہونے کے بعد نئے ڈین کے لیے ناموں کا باقاعدہ پینل بھیجا تھا، مگر وزیر اعلیٰ ہاؤس نے وائس چانسلر کے سفارش کردہ ناموں کے بجائے اپنی مرضی سے بیرسٹر سرفراز میتلو کو ڈین آف لاء تعینات کر دیا۔

نمائندہ اردو تعلیم کے مطابق بیرسٹر سرفراز میتلو کا جامعہ کراچی، اس سے الحاق شدہ کسی ادارے یا لاء ایجوکیشن سے کوئی تعلق نہیں ہے، جبکہ ایکٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ صرف وائس چانسلر کے بھیجے گئے پینل میں سے ہی کسی کا انتخاب کرنے کے پابند تھے۔ اس سے قبل بیرسٹر ذیشان ایدھی کی تقرری بھی خلاف ضابطہ کی گئی تھی، حالانکہ اس وقت پینل میں لاء یونیورسٹی کے بانی وائس چانسلر جسٹس (ر) قاضی خالد اور ایڈووکیٹ طارق علی جیسے نام شامل تھے۔

یاد رہے کہ سندھ ہائی کورٹ پہلے ہی جامعہ کراچی میں ڈین فیکلٹی آف سائنس کی تقرری کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کر چکی ہے۔ جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس عدنان الکریم میمن پر مشتمل بینچ نے قرار دیا تھا کہ تقرریوں میں سینارٹی اور میرٹ کو نظر انداز کرنا بدنیتی ہے۔ عدالت نے گریڈ 22 کے سینئر ترین امیدوار پروفیسر سید جمیل حسن کاظمی کو نظر انداز کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا تھا جس کے بعد محکمہ بورڈز و جامعات کو میرٹ پر فیصلہ کرنا پڑا تھا۔

موقف کے لیے جب وزیر اعلیٰ سندھ کے ترجمان رشید چنا سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے معاملہ متعلقہ وزیر یا سیکریٹری پر ڈال دیا۔ دوسری جانب سیکریٹری بورڈز و جامعات عباس بلوچ کا کہنا ہے کہ تقرری محکمہ قانون سے مشاورت کے بعد کی گئی ہے اور اس میں کوئی غلط کام نہیں ہوا۔