پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے جاری کردہ یہ اعداد و شمار واقعی ملکی معیشت اور سماجی صورتحال کی ایک انتہائی سنگین اور فکر انگیز تصویر پیش کرتے ہیں۔ ان اہم معاشی اور سماجی اعشاریوں (Indicators) کو اگر آسان اور منظم انداز میں دیکھا جائے تو صورتحال کچھ یوں ہے:
معاشی اور مالیاتی بوجھ
- سرکاری قرضہ: ملک کا مجموعی سرکاری قرضہ 833 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جو کہ جی ڈی پی (GDP) کے 65.6 فیصد کے برابر ہے۔
- فی فرد قرض: پاکستان کے ہر شہری پر قرض کا اوسط بوجھ 3,30,365 روپے ہو چکا ہے۔
- بجٹ کا استعمال: قومی بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ ترقیاتی کاموں کے بجائے صرف ماضی کے قرضوں پر سود کی ادائیگی (Debt Servicing) میں صرف ہو رہا ہے۔
سماجی اور انسانی بحران
- غربت میں اضافہ: ملک میں غربت کی شرح 21.9 فیصد سے بڑھ کر 28.9 فیصد ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کی غذائی عادات تبدیل ہو رہی ہیں اور وہ بنیادی سہولتوں سے محروم ہو رہے ہیں۔
- بے روزگاری: ملک میں بے روزگار افراد کی تعداد 59 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔
- تعلیمی پسماندگی: انسانی سرمائے پر کم سرمایہ کاری کا نتیجہ یہ ہے کہ ملک کا ہر تیسرا بچہ اسکول سے باہر ہے، جو مستقبل کی افرادی قوت کے لیے ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے۔
ماحولیاتی اور تجارتی چیلنجز
- درآمدی انحصار: خوراک اور توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کا انحصار بیرونی ممالک (درآمدات) پر بہت زیادہ ہے، جو ملکی خزانے پر مزید بوجھ ڈالتا ہے۔
- موسمیاتی تبدیلیاں: شدید ماحولیاتی آلودگی اور تیزی سے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز جیسے خطرات نہ صرف زراعت بلکہ پورے لائف سائیکل کو متاثر کر رہے ہیں۔
یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ پاکستان کو اس وقت بیک وقت معاشی استحکام، انسانی ترقی (تعلیم و صحت) اور ماحولیاتی تحفظ کے محاذ پر ہنگامی بنیادوں پر طویل مدتی اور ٹھوس پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے۔

