پشاور (سپیشل رپورٹر) جنوبی وزیرستان لوئر میں روزانہ کی بنیاد پر عائد کرفیو کے باعث تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہونے پر اسکول کے طلباء نے سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔
مظاہرین نے حکومت اور مقامی ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ
اسکول یونیفارم، بیگز اور اسکول کارڈز کے ذریعے بچوں اور اساتذہ کی شناخت کر کے انہیں چیک پوسٹوں سے محفوظ آمدورفت کی اجازت دی جائے تاکہ ان کا تعلیمی حرج نہ ہو۔
مقامی اسکول کے پرنسپل عثمان وزیر کی قیادت میں ہونے والے اس احتجاج میں طلباء نے اپنے مطالبات کے حق میں مختلف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ پرنسپل عثمان وزیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل کرفیو کی وجہ سے بچوں کا قیمتی تعلیمی سال اور وقت ضائع ہو رہا ہے
گورنر ہاوس کراچی میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب
اور وہ وقت پر اسکول پہنچنے اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے قاصر ہیں۔
انہوں نے تجویز دی کہ تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے اساتذہ کو باقاعدہ کارڈز جاری کیے جائیں تاکہ چیک پوسٹوں پر کارڈ دکھا کر انہیں گزرنے کی اجازت مل سکے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ
جنوبی وزیرستان لوئر میں امن و امان کی صورتحال کے باعث پہلے ہی کاروبار اور دیگر شعبہ ہائے زندگی متاثر ہیں، ایسے میں تعلیم کے شعبے کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے فوری موثر اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔