اہم ترین

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کو سعودی جامعہ سے1300 کمپیو ٹرز فراہم کیےجائیں گے،صدر جامعہ

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر)بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد...

لاہور کے گرلز کالجز کے درمیان وزیر اعلیٰ پنجاب کی تصاویر بنانے کا پینٹنگ مقابلہ

لاہور(ایجو کیشن رپورٹر)وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی ہدایت...

ایچ ای سی نے سگریٹ نوشی پر پابندی عائد کر دی

لاہور(ایجو کیشن رپورٹر)ائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے...

وائس چانسلر گومل یونیورسٹی کو جبری رخصت پر بھیج دیا گیا

ڈیرہ اسماعیل خان(نمائندہ خصوصی)گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر...

دلخراش واقعے کے بعدبالآخر پشاور انتظامیہ جاگ گئی، تمام سکولوں کی انسپکشن کا فیصلہ

پشاور (ایجوکیشن رپورٹر) دیر کالونی پشاور میں سکول کی چھت گرنے کے دلخراش واقعے کے بعد محکمہ تعلیم خیبر

پختونخوا نے صوبے کے تمام اضلاع میں نجی سکولوں کی عمارتوں کے معائنے کے لیے انسپکشن کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں۔

ان ٹیموں کی تشکیل کا بنیادی مقصد نجی سکولوں کی عمارتوں کی ساخت، مضبوطی اور موجودہ حالت کا باریک

بینی سے جائزہ لینا ہے تاکہ طلبہ اور اساتذہ کے لیے محفوظ ماحول یقینی بنایا جا سکے اور مستقبل میں ایسے

ناخوشگوار حادثات سے بچا جا سکے۔

 کمیٹی کی ساخت اور دائرہ کار

 ہر اضلاعی کمیٹی کی سربراہی ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر کرے گا۔

ارکان: کمیٹی میں محکمہ تعلیم، محکمہ مواصلات و تعمیرات  کے نمائندے اور دیگر نامزد ذمہ داران شامل ہوں گے۔

جامع سروے: یہ کمیٹیاں اپنے اپنے اضلاع میں قائم تمام نجی اسکولوں کی عمارتوں کا موقع پر جا کر معاینہ کریں

گی، قطع نظر اس کے کہ عمارت ذات ملکیت ہو یا کرائے پر لی گئی ہو۔

معائنے کا طریقہ کار اور معیار

معائنے کے دوران عمارت کی چھتوں، سیلنگ، دیواروں، ستونوں، شہتیروں، بنیادوں، سیڑھیوں اور دیگر اہم حصوں کی

تکنیی حالت کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ کسی بھی ممکنہ نقص یا حفاظتی خطرے کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔

معائنے کے بعد تمام سکولوں کی عمارتوں کو تین زمروں میں تقسیم کیا جائے گا

 محفوظ عمارتیں

 مرمت طلب عمارتیں

 ممکنہ طور پر غیر محفوظ عمارتیں (جن کی فوری تکنیکی جانچ اور تکنیکی اقدامات ضروری ہوں)

 فوری اقدامات اور حتمی رپورٹ کی مہلت

کمیٹیاں عمارتوں کی مرمت، انہیں مضبوط بنانے اور بحالی کے لیے اپنی سفارشات پیش کریں گی۔ فوری خطرے کی

حامل عمارتوں کے حوالے سے ضلعی حکام کو فوری آگاہ کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر ان عمارتوں کے استعمال کو

معطل کرنے یا وہاں تک رسائی محدود کرنے کی سفارش کی جائے گی۔

نوٹیفکیشن کے اجراء کے بعد تمام کمیٹیاں تین دن کے اندر اپنی تفصیلی رپورٹ اور ضروری اصلاحی اقدامات کے لیے

سفارشات محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کو پیش کرنے کی پابند ہوں گی۔