کراچی (کورٹ رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے اردو یونیورسٹی کے ریٹائرڈ اسسٹنٹ رجسٹرار کی پینشن واجبات کی عدم ادائیگی کے خلاف درخواست پریونیورسٹی کو دستاویزات کا جائزہ لیکر جواب جمع کروانے کا حکم دے دیا ۔سندھ ہائی کورٹ آئینی بینچ میں اردو یونیورسٹی کے ریٹائرڈ اسسٹنٹ رجسٹرار کی پینشن واجبات کی عدم ادائیگی کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی ۔

عدالت نے درخواست گزار کو ٹائٹل میں ترمیم کی ہدایت کرتے ہوئے ہدایت کی کہ سوشل سروسز اور نیشنل لینگویج اتھارٹی کو بھی درخواست میں فریق بنایا جائے۔وکیل اردو یونیورسٹی نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کی سروس صرف پانچ برس ہے۔درخواست گزار پینشن واجبات کے لئے مقررہ سروس نہیں رکھتے۔
درخواست گزار کے وکیل عارف وحید غزنوی نے بتایا کہ 1979 میں سوشل سروسز ڈپارٹمنٹ جوائن کیا تھا۔
1985 میں نیشنل لینگویج اتھارٹی میں ضابطے پورے کرکے تقرری ہوئی۔سرکاری وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ درخواست گزار کے سابق اداروں میں پینشن موجود نہیں تھی۔دوران سروس درخواست گزار کی تنخواہ سے کٹوتی نہیں کی جاتی تھی۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ سرکاری وکیل غلط بیانی کررہے ہیں۔نیشنل لینگویج اتھارٹی میں پینشن کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔2005 میں اردو یونیورسٹی ٹرانسفر کے وقت واجبات بھی اردو یونیورسٹی کے فراہم کئے گئے۔عدالت نے تمام دستاویز یونیورسٹی وکیل کو فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے یونیورسٹی کو دستاویزات کا جائزہ لیکر جواب جمع کروانے کا حکم دے دیا عدالت نے درخواست کی سماعت تین ہفتوں تک ملتوی کردی










