اہم ترین

خانیوال،پبلک سکول اینڈ یونیورسٹی کالج میں سائیکلنگ مقابلے

خانیوال(نمائندہ خصوصی ) پبلک سکول اینڈ یونیورسٹی کالج میں...

گرلز اسکول تربت کی طالبات کا ریڈیو پاکستان کا دورہ

تربت (نمائندہ حصوصی) گورنمنٹ گرلز ماڈل ہائی سکول تربت...

بیوٹمز سکول آف لاء میں موٹ کورٹ کا آغاز، قانونی تعلیم کا معیار بہتر بنانا ضروری ہے، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ

کوئٹہ (نمائندہ حصوصی) بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ...

کمشنر مالاکنڈکا محکمہ تعلیم میں گھوسٹ ملازمین اور غیر حاضر عملے کے خلاف سخت کارروائی کا حکم

مالاکنڈ (نمائندہ حصوصی) کمشنر مالاکنڈ ڈویژن اقبال حسین باچا...

سندھ پبلک سروس کمیشن امتحانی نظام میں بے ضابطگیوں کیحلاف طلبہ کا لانگ مارچ شروع

حیدرآباد (نمائندہ حصوصی) سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحانی نظام میں بے ضابطگیوں اور نوجوانوں کے ساتھ

ناانصافیوں کے خلاف طلبہ نے حیدرآباد سے کراچی کی طرف پیدل لانگ مارچ کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ سندھ اسٹوڈنٹس

ایکشن کمیٹی کی جانب سے سندھ پبلک سروس کمیشن کی مرکزی سیکریٹریٹ بلڈنگ کے سامنے جمعہ کے روز بھی

احتجاج جاری رکھا گیا جس میں مختلف سیاسی و قوم پرست جماعتوں اور سماجی کارکنوں نے شرکت کی۔ اس موقع

پر عوامی تحریک کے مرکزی رہنما نور احمد کاتیار، سندھی شاگرد تحریک کے ایاز لغاری، رمیش رباڑی، سجاگ بار

تحریک کے سرمد سائیں داد خاصخیلی، شعیب بھٹو اور عوامی تحریک حیدرآباد کیسر مدراچپرو و دیگر نے خطاب کرتے

ہوئے کہا کہ میرٹ کی پامالی سندھ کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہے، سندھ کے نوجوان برسوں محنت کر کے مسابقتی

 

ایچ ای سی ، 38 جامعات میں کمپیوٹنگ پروگراموں کے نئے داخلوں پر عارضی پابندی برقرار

 

امتحانات کی تیاری کرتے ہیں لیکن ایس پی ایس سی کی انتظامیہ پیپلزپارٹی کی سرپرستی میں رشوت کا بازار گرم

کر کے لاکھوں نوجوانوں اور ان کے اہل خانہ کے خوابوں کو قتل کر رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سی ایس اے 2024

کے نتائج اور امتحانی عمل میں ہونے والی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے غیر جانبدار جوڈیشل کمیشن قائم کیا

جائے، اعتراضات کی شفاف تحقیقات کر کے دوبارہ امتحان منعقد کرایا جائے، سی ایس اے کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر

کی حد 35 سال اور ون پیپر امتحانات کے لیے 43 سال مقرر کی جائے، نیز امتحانات دینے کے مواقع 3 بڑھا کر 5 کیے

جائیں اور انجینئرنگ کیڈر کے انٹرویوز کے اعتراضات دور کر کے دوبارہ انٹرویوز لیے جائیں، جس کے بعد طلبہ کی بڑی

تعداد وجاہت ہنگورجو، ذبیح اللہ مستوئی، فخر زمان کھوہارو، نجیب اللہ اور دیگر طلبہ رہنماؤں کی قیادت میں کراچی

کی طرف روانہ ہو گئی