کوٹری(ایجو کیشن رپورٹر) سندھ یونیورسٹی میں سندھ پبلک سروس کمیشن کے خلاف طلبا ایکشن کمیٹی کی جانب سے شدید احتجاج کرتے ہوئے ایک ریلی نکالی گئی، جس میں جامعہ سندھ کے طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تفصیلات کے مطابق طلبہ نے سندھ یونیورسٹی سے پریس کلب جامشورو تک پیدل مارچ کرتے ہوئے شدید نعرے بازی کی۔ اس موقع پر وکلا اسٹوڈنٹس سمیت دیگر افراد نے بھی ریلی میں شرکت کر کے طلبہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
خبر کے اہم نکات درج ذیل ہیں
-
نوکریوں کی فروخت کا الزام: مظاہرین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ کروڑوں روپوں میں نوکریاں فروخت کی جا رہی ہیں اور میرٹ کا قتل عام ہو رہا ہے، جس کا اعلیٰ حکام کو فوری نوٹس لینا چاہیے۔
-
سیکیورٹی سے تلخ کلامی: قافلے کو یونیورسٹی میں داخلے کے دوران ڈائریکٹر سیکیورٹی رفیق بروہو کی جانب سے ایکو ساؤنڈ گاڑی کو داخل کرنے کی اجازت نہ ملنے پر مین گیٹ پر روک لیا گیا، جس کے باعث طلبہ اور سیکیورٹی عملے کے درمیان معمولی تلخ کلامی ہوئی۔
-
بیرئیر توڑ کر داخلہ: احتجاجی طلبہ نے بیریئر کو زبردستی کھولتے ہوئے گاڑی کو اندر داخل کر لیا اور اپنی احتجاجی ریلی کو آگے بڑھایا۔
-
پرامن رہ کر حل کی کوشش: اس موقع پر طلبہ و طالبات کا کہنا تھا کہ ریلی کو مشتعل کرنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، لیکن انہوں نے پرامن رہتے ہوئے معاملے کو حل کیا۔
طلبا نے اعلیٰ حکام سے مطالبات کی منظوری اور شفافیت قائم کرنے کا زوردار مطالبہ کیا ہے۔

