معاہدے کے تحت پی ایچ ڈی کے بعد 5 سال خدمات کی شرط تھی؛ انتظامیہ کی بروقت کارروائی میں ناکامی پر اڈٹ اعتراض
پشاور (نامہ نگار)
یونیورسٹی آف صوابی کے تین پی ایچ ڈی اسکالرز کی بیرونِ ملک تعلیم پر کروڑوں روپے خرچ کیے جانے کے باوجود ان کے واپس نہ لوٹنے اور غائب ہو جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس لاپرواہی کے نتیجے میں قومی خزانے کو 2 کروڑ 76 لاکھ 45 ہزار روپے سے زائد کا نقصان پہنچا ہے
آڈٹ رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے تین اساتذہ کو اعلیٰ تعلیم اور پی ایچ ڈی کے لیے سرکاری خرچ پر بیرونِ ملک بھیجا تھا اسکالرز اور یونیورسٹی کے مابین طے پانے والے معاہدے کے تحت تعلیم مکمل کرنے کے بعد کم از کم 5 سال تک صوابی یونیورسٹی میں خدمات انجام دینا لازمی تھا، جبکہ معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں تمام اخراجات بمعہ جرمانہ واپس کرنا تھے
۔ تاہم، تینوں اسکالرز پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد نہ تو یونیورسٹی واپس آئے اور نہ ہی ملازمت جوائن کی، بلکہ بیرونِ ملک ہی مقیم رہے
رپورٹ کی تفصیلات کے مطابق
ایک اسکالر پر 69 لاکھ 87 ہزار 969 روپے خرچ ہوئے
دوسرے اسکالر پر
79 لاکھ 32 ہزار 194 روپے کے اخراجات آئے
تیسرے اسکالر پر 1 کروڑ 27 لاکھ 24 ہزار 906 روپے کی خطیر رقم خرچ کی گئی
آڈٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ شدید خلاف ورزی کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ نے متعلقہ اسکالرز یا ان کے ضامنوں سے رقم کی بروقت وصولی کے لیے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا
دوسری جانب انتظامیہ نے آڈٹ اعتراض کے جواب میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ریکوری کی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ سنڈیکیٹ کے فیصلوں کی روشنی میں اسکالرز کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں، 25 فیصد جرمانے سمیت قابلِ وصول رقم کا تعین کیا گیا ہے، اور FIA، نادرا نیز ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن کے ذریعے رابطے کے اقدامات جاری ہیں
تاہم، آڈٹ نے رپورٹ کی تکمیل تک پیش رفت سے آگاہ نہ کیے جانے پر اعتراض قائم رکھتے ہوئے سفارش کی ہے کہ تینوں اسکالرز سے مکمل رقم بمعہ جرمانہ فوری طور پر وصول کی جائے اور ان کے ضامنوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے