اسلام آباد (تعلیمی رپورٹر) قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں مستقل وائس چانسلر کی طویل عرصے سے عدم تعیناتی کے خلاف طلبہ برادری کا لاوا پھٹ پڑا ہے۔ یونیورسٹی کی سب سے بڑی طلبہ تنظیم ‘قائدین اسٹوڈنٹ فیڈریشن’ کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی کال پر یونیورسٹی میں شدید احتجاج کیا گیا، جس کے باعث کیمپس میں ہونے والے تمام امتحانات (پیپرز) کو فوری طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے جبکہ طلبہ و طالبات نے کلاسز کا بھی مکمل بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بحران کی بنیادی وجہ اور طلبہ کے تحفظات
احتجاجی طلبہ و طالبات کا مؤقف ہے کہ یونیورسٹی اس وقت شدید انتظامی بحران کا شکار ہے کیونکہ ایکٹنگ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر نواز جسپال کی تین ماہ کی قانونی مدتِ عہدہ 19 مئی 2026 کو ہی مکمل ہو چکی ہے۔ اس مدت کے ختم ہونے کے باوجود تاحال وفاقی حکومت یا متعلقہ حکام کی جانب سے نئے وائس چانسلر کی مستقل یا عبوری تعیناتی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ مستقل سربراہ نہ ہونے سے یونیورسٹی کا تعلیمی ماحول بری طرح متاثر ہو رہا ہے، اور مسلسل دباؤ و انتظامی مسائل کی وجہ سے طلبہ میں ذہنی پریشانی بڑھ رہی ہے۔
طلبہ تنظیم کے قائدین نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ جب تک یونیورسٹی میں مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی کا دیرینہ مطالبہ تسلیم نہیں کر لیا جاتا، تب تک احتجاج، امتحانی بائیکاٹ اور کلاسز کی بندش کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا۔
طلبہ تنظیم ‘قائدین اسٹوڈنٹ فیڈریشن’ اور عام طلبہ و طالبات نے اپنے اعلامیے میں واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ “مطالبات تسلیم نہ ہونے تک احتجاج اور کلاسز کے بائیکاٹ کا سلسلہ جاری رہے گا”۔ چونکہ ایکٹنگ وی سی کی مدت 19 مئی 2026 کو ختم ہو چکی ہے اور تاحال نئی تعیناتی کا کوئی سرکاری نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوا، اس لیے طلبہ کے طے شدہ فیصلے کے مطابق آج یعنی جمعرات 18 جون 2026 کو بھی کیمپس میں امتحانی تعطل، کلاسز کا بائیکاٹ اور احتجاجی ڈیڈ لاک بدستور برقرار رہے گا

