اہم ترین

تعلیمی بورڈ کوہاٹ، جوابی کاپیوں میں ٹیمپرنگ ، کنٹرولر معطل

پشاور (ایجوکیشن رپورٹر) کوہاٹ تعلیمی بورڈ میں امتحانی امور اور...

ایش پلاسٹک ٹیکنالوجی کو دفاعی صنعت میں پذیرائی، داؤد سنز آرمری کا داؤد یونیورسٹی کا دورہ

کراچی (ایجوکیشن رپورٹر)داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی...

راولپنڈی، نجی سکول میں 8 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی، حقائق چھپانے کی کوشش, ویڈیو ڈیلیٹ کر دی

راولپنڈی (کرائم رپورٹر)راولپنڈی کے علاقے تھانہ دھمیال کی حدود...

لاہور کی جامعات کے لیے آؤٹ کم بیسڈ ایجوکیشن، یو ای ٹی کا جدید تربیت اور باہمی تعاون فراہم کرنے کا اعلان

(ایجوکیشن رپورٹر)لاہور

 گیریزن یونیورسٹی میں لاہور کی جامعات کے وائس چانسلرز کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کی۔ اجلاس میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی) لاہور نے شہر کی دیگر جامعات کو آؤٹ کم بیسڈ ایجوکیشن (OBE) کے مؤثر نفاذ کے لیے فیکلٹی ٹریننگ اور کنسلٹنسی کی سہولت فراہم کرنے کی پیشکش کر دی۔

فیکلٹی ٹریننگ اور مشترکہ انٹرن شپس کی تجویز

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر یو ای ٹی ڈاکٹر شاہد منیر نے کہا کہ یو ای ٹی اپنے تجربے اور مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے دیگر جامعات کے فیکلٹی ممبران کو نصاب کی تشکیل، پروگرام کے تعلیمی نتائج اور اسیسمنٹ کے نظام کی تربیت دے سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جامعات کے درمیان تعلقات کو محض رسمی روابط کے بجائے عملی اشتراک میں بدلا جائے اور گرمیوں کی تعطیلات میں طلباء کو ایک دوسرے کی جامعات میں انٹرن شپ کے مواقع دیے جائیں۔

انٹرنیشنل اسٹوڈنٹ کنونشن کی میزبانی

وائس چانسلر یو ای ٹی نے لاہور کی تمام جامعات کے اشتراک سے ایک بین الاقوامی اسٹوڈنٹ کنونشن منعقد کرنے کی بھی پیشکش کی۔ انہوں نے تجویز دی کہ اس ایونٹ کی سربراہی چیئرمین ایچ ای سی کریں، جبکہ یو ای ٹی لاہور اس کی میزبانی کے لیے مکمل تیار ہے۔

تعلیمی نظام میں مصنوعی ذہانت (AI) کا نفاذ

چیئرمین ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے اجلاس کے شرکاء کو ہائر ایجوکیشن کمیشن کے جدید اور انقلابی اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے جامعات کے نصاب کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے، معیارِ تعلیم میں بہتری لانے اور مصنوعی ذہانت (AI) کو تعلیمی نظام کا مؤثر حصہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

اجلاس کے اختتام پر تمام جامعات کے درمیان باہمی تعاون کو مضبوط بنانے، اساتذہ و طلباء کے لیے مشترکہ تربیتی پروگرامز کا فروغ دینے اور اعلیٰ تعلیم کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔