کراچی (ایجو کیشن رپورٹر) سیکریٹری محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ ندیم الرحمٰن میمن کی زیر صدارت مالی سال 2021ء تا 2025ء کی پروکیورمنٹ (خریداری) اسکیموں پر پیشرفت سے متعلق ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں تعلیمی اداروں کے لیے سامان کی خریداری، فنڈز کے استعمال اور انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اعلیٰ افسران کی اجلاس میں شرکت
اس اہم اجلاس میں محکمہ کالج ایجوکیشن کے اعلیٰ حکام اور افسران نے شرکت کی، جن میں درج ذیل شخصیات شامل تھیں
- ڈائریکٹر جنرل کالجز زاہد راجپر
- اسپیشل سیکریٹری فرخ شہزاد قریشی
- ایڈیشنل سیکریٹری مختیار ملاح
- ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سجاد ابڑو
- چیف انجینئر سلیم شیخ اور تمام ریجنل ڈائریکٹرز۔
بعض کالجوں میں سامان کی عدم فراہمی پر سیکریٹری کالج ایجوکیشن کی سخت برہمی
اجلاس کے دوران تمام ریجنل ڈائریکٹرز نے اپنے اپنے زیرِ انتظام کالجوں کی پروکیورمنٹ صورتحال پر جامع بریفنگ دی۔ بعض کالجوں میں فنڈز کی دستیابی کے باوجود سامان فراہم نہ کیے جانے کی نشاندہی پر سیکریٹری کالج ایجوکیشن ندیم الرحمٰن میمن نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔
سیکریٹری ندیم الرحمٰن میمن نے واضح الفاظ میں کہا
“اگر کسی کنٹریکٹر نے اب تک کالجوں کو سامان فراہم نہیں کیا تو اس کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ کسی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ محکمہ کا سامان روکے۔ اگر اس عمل میں کسی سرکاری افسر کی ملی بھگت ثابت ہوئی، تو اس کے خلاف بھی تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔”
ورک آرڈرز کی جانچ پڑتال اور آئندہ ہفتے تک جامع رپورٹ کی ڈیڈ لائن
سیکریٹری کالج ایجوکیشن نے تمام ریجنل ڈائریکٹرز کو سخت احکامات جاری کرتے ہوئے تمام ورک آرڈرز، آڈٹ ریکارڈ اور خریداری کے عمل کی مکمل جانچ پڑتال کرنے اور آئندہ ہفتے تک جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
انہوں نے مزید ہدایات جاری کیں کہ
- فزیکل ویری فکیشن: ہر اسکیم کے تحت خریدے گئے سامان کی موقع پر جا کر فزیکل ویری فکیشن (جسمانی تصدیق) کی جائے۔
- ذمہ داران کا تعین: جس کالج یا ریجن میں فنڈز جاری ہونے کے باوجود سامان کی فراہمی ممکن نہیں بنائی گئی، وہاں غفلت برتنے والے ذمہ داران کا تعین کیا جائے۔
- قواعد و ضوابط کی پابندی: تمام امور مقررہ وقت، قواعد و ضوابط اور مکمل شفافیت کے ساتھ انجام دیے جائیں، کیونکہ کسی بھی سطح پر غفلت یا سستی برداشت نہیں کی جائے گی

