مردان (نمائندہ خصوصی) ضلع مردان میں گزشتہ رات ہونے والی شدید بارش نے سرکاری تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات اور انتظامات کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔ کینال روڈ پر واقع معروف ‘گورنمنٹ گرلز سینیٹینل ماڈل اسکول’ بارش کا پانی داخل ہونے کے باعث مکمل طور پر جوہڑ کا منظر پیش کرنے لگا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بارش کے باعث اسکول کے مرکزی گیٹ، وسیع صحن اور تمام داخلی راستوں پر کئی فٹ پانی جمع ہو چکا ہے۔ پانی کے تیز بہاؤ اور گہرائی کے سبب اسکول آنے والی طالبات کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ والدین اپنی بچیوں کو موٹر سائیکلوں، گاڑیوں اور گود میں اٹھا کر بمشکل اسکول کے اندر پہنچانے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ 1600 سے زائد طالبات پر مشتمل یہی تعلیمی ادارہ گزشتہ ہفتے بھی خبروں کی سرخی بنا تھا، جب شدید گرمی کے دوران بجلی کی مسلسل عدم موجودگی اور لوڈشیڈنگ کے باعث طالبات کی حالت غیر ہو گئی تھی، اور اب ناقص و ناکافی نکاسیِ آب کے نظام نے ان کے لیے ایک نئی مصیبت کھڑی کر دی ہے۔
اسکول کی اس دگرگوں صورتحال نے صوبائی حکومت کے "تعلیمی ایمرجنسی” کے بلند و بانگ دعوؤں پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ مقامی شہریوں اور شدید پریشان والدین نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ محض زبانی دعوؤں تک محدود رہنے کے بجائے تعلیمی اداروں کی زمینی صورتحال کا خود جائزہ لیں اور اسکول میں نکاسیِ آب کے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں تاکہ 1600 طالبات کا تعلیمی مستقبل اور صحت محفوظ رہ سکے۔

