اہم ترین

راولپنڈی کے 48 سرکاری سکول پولیس اہلکاروں کی رہائش کے لیے خالی کروا لیے گئے

راولپنڈی (کرائم رپورٹر) سیاسی جماعتوں کے متوقع احتجاج اور دھرنوں...

اٹلی کا سکولوں میں حجاب اور برقع پر پابندی کا فیصلہ

روم ( ویب ڈیسک ) اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی...

بیوٹمز سٹی کیمپس کی کسی دوسرے ادارے کو منتقلی کا فیصلہ، پشتونخوا نیپ کی شدید مذمت

کوئٹہ (سپیشل رپورٹر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے بلوچستان یونیورسٹی...

جامعہ کراچی کے پروفیسر تشدد کیس میں پیشرفت، فریقین میں صلح

کراچی (ایجو کیشن رپورٹر) جامعہ کراچی کے شعبہ علومِ اسلامیہ...

ملک بھر میں ایم ڈی کیٹ امتحان کا انعقاد مکمل، امیدواروں کو ‘Answer Key’ کا انتظار

کراچی (سپیشل رپورٹر) کراچی سمیت ملک بھر میں میڈیکل اینڈ...

بیوٹمز سٹی کیمپس کی کسی دوسرے ادارے کو منتقلی کا فیصلہ، پشتونخوا نیپ کی شدید مذمت

کوئٹہ (سپیشل رپورٹر)
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز (بیوٹمز) کے سٹی کیمپس کو کسی دوسرے سرکاری ادارے کے حوالے کرنے کے فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

پارٹی نے اس اقدام کو صوبے کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ساتھ ناانصافی اور طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو نقصان پہنچانے کے مترادف قرار دیا ہے۔

پشتونخوا نیپ کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم بیان میں حکومتِ بلوچستان سے زوردار مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس فیصلے کو بلا تاخیر اور فوری طور پر واپس لیا جائے اور بیوٹمز سٹی کیمپس کو یونیورسٹی ہی کے تعلیمی و تدریسی مقاصد کے لیے برقرار رکھا جائے۔

جامعہ کراچی کے پروفیسر تشدد کیس میں پیشرفت، فریقین میں صلح

تعلیمی ضرورت اور کیمپس کی اہمیت:
بیان میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بیوٹمز صوبے کا ایک انتہائی معتبر اور کلیدی اعلیٰ تعلیمی ادارہ ہے جہاں اس وقت بھی ہزاروں طلبہ و طالبات زیورِ تعلیم سے آراستہ ہو رہے ہیں۔ یونیورسٹی میں نئے تعلیمی شعبوں، جدید تدریسی پروگراموں اور

تحقیقی سرگرمیوں کے مسلسل پھیلاؤ کے باعث مزید کلاس رومز، جدید ترین لیبارٹریز، ڈیجیٹل لائبریریوں اور تحقیقی مراکز کی ضرورت دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔ ایسے حالات میں یونیورسٹی کے پہلے سے موجود تعلیمی اثاثوں اور کیمپسز کو محدود کرنا تعلیمی دشمنی ہے، جبکہ حکومت کی اصل ذمہ داری ان سہولیات میں اضافہ کرنا ہے۔
تعلیمی پسماندگی اور حکومت کی ذمہ داری

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان پہلے ہی شدید تعلیمی پسماندگی، محدود سہولیات، مالی مشکلات اور اعلیٰ تعلیم کے حصول میں درپیش متعدد رکاوٹوں کا شکار ہے۔ ایسے نازک موڑ پر حکومت کی بنیادی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ جامعات اور تعلیمی اداروں کو درپیش مالی و انتظامی بحرانوں کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کرے، نہ کہ ان کے قائم شدہ کیمپسز کو دیگر مقاصد کے لیے استعمال کرے۔