اہم ترین

طلبہ حقوق کے لیے اسلامی جمعیت طلبہ کا رحیم یار خان سے لاہور ‘روڈ کارواں’ کا اعلان

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر) اسلامی جمعیت طلبہ تنظیم نے 9 نومبر...

کراچی, فرسٹ ایئر سالانہ نتائج 2026 کا نئے گریڈنگ سسٹم کے تحت اعلان

کراچی (ایجوکیشن رپورٹر) اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے چیئرمین...

کراچی یونیورسٹی,مستحق طلبہ اور فیکلٹی آف آرٹس کے لیے 5 کروڑ کے اینڈومنٹ فنڈ کا قیام

کراچی(ایجوکیشن رپورٹر) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر...

طلبہ میں سائنسی سوچ کےفروغ کیلئے سندھ میں ساڑھے 8 ہزار سائنس اساتذہ بھرتی کرنے کا اعلان

کراچی(ایجوکیشن رپورٹر) سندھ میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، آرٹس اور...

نئی گریڈنگ پالیسی نے تباہی مچا دی، نویں جماعت جنرل گروپ میں 64 فیصد طلبہ فیل، کامیابی کی شرح میں 18 فیصد کمی

کراچی (ایجوکیشن رپورٹر) ملک میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی سطح پر نافذ کی جانے والی نئی گریڈنگ پالیسی کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، جس کے تحت سندھ میں میٹرک بورڈ کراچی کے نویں جماعت (جنرل گروپ) کا سالانہ نتیجہ 2026ء شدید زوال کا شکار ہوا ہے۔ نئی پالیسی کے نفاذ کے بعد کامیابی کا تناسب گزشتہ سال کی نسبت 18 فیصد گر گیا ہے اور 64 فیصد طلبہ ناکام ہو گئے ہیں جبکہ صرف 36 فیصد طلبہ ہی پاس ہو سکے۔
میٹرک بورڈ کے ذرائع کے مطابق نئی گریڈنگ پالیسی کے تحت ہر مضمون کے پاسنگ مارکس 33 سے بڑھا کر 40 کیے گئے ہیں، جو طلبہ کی اتنی بڑی تعداد میں ناکامی کی بنیادی وجہ بنے ہیں۔
جاری کردہ اعداوشمار کے مطابق نویں جماعت جنرل گروپ کے امتحانات میں کل 14,277 طلبہ شریک ہوئے، جن میں سے 8,981 طلبہ ناکام رہے اور صرف 5,185 طلبہ ہی تمام پرچوں میں کامیابی حاصل کر سکے۔ اس کے برعکس گزشتہ برس (2025ء) میں اسی امتحان کا نتیجہ 54 فیصد تھا، جہاں 14,984 میں سے 8,149 طلبہ پاس اور 6,803 (46 فیصد) ناکام ہوئے تھے۔

 پنجاب میں کل جمعہ کو تمام تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھلے رہیں گے، صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات
پالیسی کا اطلاق اور مستقبل کے خدشات


ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی گریڈنگ پالیسی کا اطلاق روان سال نویں اور گیارہویں جماعت پر کیا گیا ہے، جبکہ آئندہ برس 2027ء میں دسویں اور بارہویں جماعتوں پر بھی اس کا اطلاق ہوگا۔
تعلیمی حلقوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل گروپ کے بعد ابھی سائنس گروپ اور سندھ کے دیگر تعلیمی بورڈز کے نتائج آنا باقی ہیں۔ اگر یہ نتائج بھی میرٹ پر جاری کیے گئے تو کامیابی کا تناسب مزید گرنے کا خدشہ ہے، تاہم اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بورڈز نتائج کا تناسب بہتر دکھانے کے لیے میرٹ پر سمجھوتہ بھی کر سکتے ہیں۔