وانا (نامہ نگار) جنوبی وزیرستان لوئر کے متعدد علاقوں میں مسلح افراد کی جانب سے گرلز سکولوں کو بند کرنے کی دھمکیوں کے بعد ہزاروں طالبات کی تعلیم شدید خطرے میں پڑ گئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ضلع میں 184 سرکاری اور 18 سے زائد نجی گرلز سکول قائم ہیں، تاہم سیکورٹی خدشات اور انتظامی مسائل کے باعث ان میں سے متعدد ادارے متاثر ہو چکے ہیں، جس سے 10 ہزار سے زائد
طالبات کی تعلیم رکنے کا خدشہ ہے۔
تعلیمی بورڈ لاہور پوزیشن سے محروم کی گئی طالبہ پیپر ری چیکنگ میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب،
ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان لوئر مسرت زمان نے تصدیق کی ہے کہ ضلع کے بعض علاقوں میں مسلح افراد نے گرلز تعلیمی اداروں کو بند کرنے کی وارننگ دی ہے، جن میں پرائمری، مڈل اور ہائی سکول شامل ہیں۔ متاثرہ سکولوں کی بحالی کے لیے کوششیں جاری ہیں جبکہ سیکورٹی صورتحال کے جائزے کے لیے ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس سیکورٹی کمیٹی کا اجلاس بھی طلب کر لیا گیا ہے
۔
ڈی ایس پی نادر وزیر کے مطابق تحصیل برمل، وانا اور توئی خلہ کے بعض علاقوں میں عسکریت پسندوں کی جانب سے دھمکیاں دی گئی ہیں، تاہم تا حال کسی بھی گروپ کی جانب سے باضابطہ تحریری یا ویڈیو بیان سامنے نہیں آیا ہے اور نہ ہی کسی سکول انتظامیہ نے رسمی رپورٹ درج کرائی ہے۔ علاوہ ازیں، وانا کے بعض علاقوں میں گرلز اور بوائز سکولوں کو رات کی تاریکی میں بارودی مواد سے نقصان پہنچایا گیا، جن میں گورنمنٹ ہائی سکول ورسک اور گورنمنٹ گرلز ہائی سکول جنان کوٹ شامل ہیں۔




