اہم ترین

اسلامی جمعیت طلبہ نے ”حقوق طلبہ تحریک“ کا آغاز کردیا

لاہور/اسلام آباد(ایجو کیشن رپورٹر)ناظمِ اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان...

 ایم ڈی کیٹ میں نمبرز بڑھوانے کا جھانسہ دینے والا جعل ساز گروہ گرفتار

مردان (سپیشل رپورٹر) وفاقی تحقیقاتی ادارے مردان نے ایک بڑی...

سندھ میں 838 نئے و ازسرنو تعمیر شدہ سکولوں میں داخلہ مہم شروع کرنے کا حکم

کراچی (سپیشل رپورٹر) حکومتِ سندھ نے صوبے میں تعلیمی انقلاب...

ایم ڈی کیٹ خیبرپختونخوا 38 ہزار سے زائد امیدواروں کا امتحان پرامن ماحول میں اختتام پذیر

پشاور (سپیشل رپورٹر) خیبر میڈیکل یونیورسٹی (KMU) کے زیرِ اہتمام...

پشاور تعلیمی بورڈ کی فیسوں میں 148 فیصد تک اضافہ, چارسدہ میں طلبہ کا شدید احتجاج

پشاور تعلیمی بورڈ کی فیسوں میں 148 فیصد تک اضافہ: چارسدہ میں طلبہ کا شدید احتجاج

ڈی ایم سی تصدیق، امتحانی اور رجسٹریشن فیسوں میں بڑا اضافہ مسترد فیسیں واپس نہ لیں تو صوبائی سطح پر احتجاج کا دائرہ وسیع کریں گے: مظاہرین کا خبردار

چارسدہ (نمائندہ خصوصی ) پشاور تعلیمی بورڈ  کی جانب سے امتحانی، رجسٹریشن، سپورٹس اور تصدیقی فیسوں میں 148 فیصد تک کے ظالمانہ اضافے کے خلاف ضلع چارسدہ کی تحصیل تنگی میں سرکاری اسکولوں کے طلبہ سڑکوں پر نکل آئے اور شدید احتجاجی مظاہرہ کیا۔

ڈی ایم سی اور سرٹیفکیٹ تصدیق فیس میں ریکارڈ اضافہ: مظاہرین کے مطابق بورڈ انتظامیہ نے ڈی ایم سی (DMC) یا اصل تعلیمی سرٹیفکیٹ کی تصدیق کی فیس 805 روپے سے بڑھا کر 2,000 روپے کر دی ہے، جس میں 1,195 روپے یعنی 148 فیصد کا یکمشت اضافہ کیا گیا ہے۔

امتحانی و دیگر فیسوں میں اضافے کی تفصیل:

  • بورڈ رجسٹریشن فیس: 700 روپے سے بڑھا کر 1,300 روپے

  • 9ویں جماعت امتحانی فیس: 2,530 روپے سے بڑھا کر 3,000 روپے

  • 10ویں جماعت امتحانی فیس: 2,990 روپے سے بڑھا کر 3,200 روپے

  • 11ویں جماعت امتحانی فیس: 2,875 روپے سے بڑھا کر 3,300 روپے

  • 12ویں جماعت امتحانی فیس: 3,105 روپے سے بڑھا کر 3,600 روپے

  • ایس ایس سی (SSC) امپروومنٹ فیس: 2,700 روپے سے بڑھا کر 3,600 روپے

  • ایچ ایس ایس سی (HSSC) امپروومنٹ فیس: 2,800 روپے سے بڑھا کر 4,000 روپے

  • گریس مارکس فیس: 345 روپے سے بڑھا کر 600 روپے

  • 11ویں جماعت سپورٹس فیس: 200 روپے سے بڑھا کر 350 روپے

طلبہ و والدین تشویش میں مبتلا: مظاہرین کا کہنا تھا کہ پہلے سے جاری معاشی بدحالی کے دور میں فیسوں میں اتنا بڑا اضافہ غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی تعلیم پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ اس فیصلے سے ہزاروں غریب بچوں کی تعلیم منقطع ہونے کا خدشہ ہے۔

حکومتی حکام سے فوری اقدام کا مطالبہ: طلبہ نے پشاور تعلیمی بورڈ اور صوبائی حکومت سے فوری طور پر اس فیصلے کو واپس لینے اور بورڈ فیسوں پر نظرِ ثانی کر کے طلبہ کو ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر فیسوں میں اضافہ فوری طور پر واپس نہ لیا گیا تو اس احتجاج کا دائرہ کار پورے صوبے تک پھیلا دیا جائے گا۔