پشاور (نامہ نگار) پشاور کے 45 نجی سکولوں میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے بچوں کو داخلہ دینے کی نشاندہی کے بعد متعلقہ تعلیمی اداروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے، جبکہ پشاور سمیت صوبے بھر کے مختلف نجی سکولوں اور کالجوں میں زیرِ تعلیم افغان طلبہ کی مکمل تفصیلات بھی طلب کر لی گئی ہیں۔
خبر کے اہم نکات
ابتدائی مرحلہ اور نشاندہیذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں پشاور کے 45 نجی سکولوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں مختلف جماعتوں میں غیر قانونی افغان شہریوں کے بچے زیرِ تعلیم ہیں۔
بی آر ٹی تعمیرات سے جامعہ اردو کے راستے مسدود، طلبہ و اساتذہ کو شدید مشکلات کا سامنا
کارروائی کی ہدایت پابندی کے باوجود ان طلبہ کو داخلہ دینے پر نجی تعلیمی اداروں کے خلاف کارروائی کے لیے صوبائی نجی سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کو ہدایت کر دی گئی ہے۔
رجسٹریشن کی منسوخی پر غور: دوسرے مرحلے میں مذکورہ طلبہ کی تعلیمی بورڈز کے ساتھ رجسٹریشن ختم کرنے کا معاملہ بھی زیرِ غور
سرکاری سکولوں اور کالجوں کی پڑتال سرکاری سکولوں میں زیرِ تعلیم غیر قانونی افغان شہریوں کے بچوں کی بھی جانچ پڑتال جاری ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس حوالے سے معلومات جمع کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں، صوبے بھر کے نجی تعلیمی اداروں اور کالجوں سے بھی زیرِ تعلیم افغان طلبہ کی تفصیلات طلب کر لی گئی ہیں




