اہم ترین

طلبہ حقوق کے لیے اسلامی جمعیت طلبہ کا رحیم یار خان سے لاہور ‘روڈ کارواں’ کا اعلان

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر) اسلامی جمعیت طلبہ تنظیم نے 9 نومبر...

کراچی, فرسٹ ایئر سالانہ نتائج 2026 کا نئے گریڈنگ سسٹم کے تحت اعلان

کراچی (ایجوکیشن رپورٹر) اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے چیئرمین...

کراچی یونیورسٹی,مستحق طلبہ اور فیکلٹی آف آرٹس کے لیے 5 کروڑ کے اینڈومنٹ فنڈ کا قیام

کراچی(ایجوکیشن رپورٹر) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر...

طلبہ میں سائنسی سوچ کےفروغ کیلئے سندھ میں ساڑھے 8 ہزار سائنس اساتذہ بھرتی کرنے کا اعلان

کراچی(ایجوکیشن رپورٹر) سندھ میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، آرٹس اور...

پشاور ہائیکورٹ،طالب علم کے صفر نمبر عدالت نے چیرمین ،کنٹرولر کو پرچے سمیت عدالت طلب کر لیا

بورڈ والے بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھیل رہے ہیں، پشاور ہائیکورٹ کی شدید برہمی

چیئرمین پشاور بورڈ اور کنٹرولر امتحانات کو اصل پرچے کے ساتھ ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا گیا

پشاور (نیوز رپورٹر)

پشاور ہائیکورٹ نے نویں جماعت کے طالب علم عبدالمعیز کو بیالوجی تھیوری میں مبینہ طور پر غلطی سے صفر نمبر دینے کے معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے چیئرمین پشاور بورڈ اور کنٹرولر امتحانات کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے طالب علم کا اصل پرچہ اور مکمل ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

جسٹس اعجاز انور اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل دو رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی۔ دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل امین الرحمن یوسفزئی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ نویں جماعت کے طالب علم کو بیالوجی تھیوری میں صفر نمبر دیے گئے ہیں۔ جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ اس مسئلے کا کیا ہوا؟ جس پر طالب علم کے والد نے بتایا کہ مسئلہ حل ہو گیا ہے، تاہم عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایسے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

پشاور بورڈ کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ پرچہ بورڈ پہنچنے پر کمپیوٹر جنریٹڈ کوڈ دیا جاتا ہے، تاہم غلطی سے طالب علم کے پرچے کو دوسرا نمبر دے دیا گیا۔ اس پر جسٹس اعجاز انور نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ "یہ تو وکیل کا بیٹا تھا، عدالت آ گیا تو پتہ چل گیا، کتنے اور طلبا ہوں گے جن کے ساتھ ایسا ہوا ہوگا؟ ہر کوئی تو عدالت نہیں آ سکتا۔”

عدالت نے مزید کہا کہ بورڈ والے بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھیل رہے ہیں، بچوں کو کم نمبر دیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں غلطی ہو گئی۔ طالب علم کو بیالوجی میں صفر نمبر دیے گئے ہیں، یہ معمولی معاملہ نہیں ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 19 لاکھ طلبا نے ری چیکنگ کے لیے درخواستیں دی ہیں۔

جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ "آپ لوگوں نے اسے روٹین بنا لیا ہے، اس کو ایسے نہیں چھوڑ سکتے، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی تو پھر کچھ بہتری آئے گی۔” عدالت نے چیئرمین پشاور بورڈ اور کنٹرولر امتحانات کو ریکارڈ کے ساتھ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی