پشاور (یونیورسٹی رپورٹر)
پشاور یونیورسٹی کے ملازمین نے جامعہ کو درپیش شدید مالی و انتظامی بحران کے خلاف اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کی تیاریاں مکمل کر کے سڑکوں پر نکلنے کا حتمی عندیہ دے دیا ہے، جس کے باعث صوبے بھر کی جامعات میں تدریسی و دفتری نظام مفلوج ہونے اور صوبہ گیر مظاہرے شروع ہونے کا شدید خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ملازمین کا حکومت سے پرزور مطالبہ ہے کہ وہ تاریخی مادرِ علمی کو موجودہ بدترین بحران سے نکالنے کے لیے فوری طور پر اپنا کلیدی کردار ادا کرے۔
ذرائع کے مطابق پشاور یونیورسٹی کے ملازمین کی جانب سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بحران کے حل اور فنڈز کی فراہمی کے لیے متعدد خطوط ارسال کیے گئے تھے، تاہم حکام بالا کی جانب سے ان خطوط کا کوئی جواب نہیں دیا گیا جس پر ملازمین میں شدید مایوسی اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ حکومت کی اس سرد مہری کے بعد ملازمین اتحاد کی طرف سے صوبہ گیر احتجاج جلد شروع ہونے کا قوی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس احتجاجی تحریک کو وسیع پیمانے پر منظم کرنے کے لیے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں، جس میں اساتذہ (ٹیچنگ اسٹاف) اور نان ٹیچنگ اسٹاف دونوں شانہ بشانہ شریک ہوں گے۔ ملازمین کے اس احتجاج کو آل یونیورسٹیز ایمپلائز فیڈریشن، فپواسا اور پیوٹا کا بھرپور تعاون بھی حاصل ہو گا، جبکہ پشاور یونیورسٹی کے پینشنرز نے بھی اس تحریک میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے تاکہ جامعہ کو تباہی سے بچانے کے لیے حکومت پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔

