لاہور(سپیشل رپورٹر) پنجاب یونیورسٹی پولیس گارڈز تنازعہ، عدالت نے مقدمہ خارج کر دیا جوڈیشل مجسٹریٹ رابعہ ریاض ماڈل ٹاون لاہور نے تمام 10 گارڈز کو مقدمہ خارج کر کے فوری رہا کردیا ہے جبکہ دوسری طرف گزشتہ شام پولیس اسٹیشن سےسامان لینے گئے2 گارڈز کو پھر پولیس نے تھانہ مسلم ٹاون میں بٹھا لیا ہے۔
پنجاب یونیورسٹی میں معمول کی چیکنگ کے دوران اعلیٰ پولیس افسر کی عزیزہ سے مبینہ بدتمیزی کا معاملہ شدت اختیار کر گیا، جس کے ردعمل میں پولیس نے یونیورسٹی کے 10 سکیورٹی گارڈز کو حراست میں لے کر ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ اور گارڈز کے مطابق ان پر تشدد بھی کیا گیا اس کارروائی کے خلاف سکیورٹی اہلکاروں نے وائس چانسلر (وی سی) آفس کے باہر شدید احتجاج کیا۔
تفصیلات کے مطابق سکیورٹی گارڈز نے رات گئے یونیورسٹی کیمپس میں ایک لڑکے اور لڑکی کی گاڑی کو روک کر پوچھ گچھ کی تھی۔ گارڈز کا مؤقف ہے کہ وائرلیس کال پر اس گاڑی کو ٹریس کر کے روکا گیا کیونکہ یونیورسٹی بند ہونے کے باجود مذکورہ دونوں افراد کیمپس کے اندر موجود تھے۔
ذرائع کے مطابق دورانِ چیکنگ گاڑی میں موجود خاتون نے خود کو ایک سینئر پولیس افسر کی عزیزہ قرار دیا اور وائرلیس پر مامور اہلکاروں سے فون پر بات بھی کرائی۔ تاہم، خاتون سے مبینہ بدتمیزی کے اس واقعے کے کچھ ہی دیر بعد پولیس کی مختلف تھانوں کی 5 گاڑیاں بھاری نفری کے ساتھ موقع پر پہنچ گئیں اور یونیورسٹی کے 10 سکیورٹی اہلکاروں کو اٹھا کر لے گئیں،
جن کے خلاف بعد میں باقاعدہ مقدمہ بھی درج کر لیا گیا۔دوسری جانب، وی سی آفس کے باہر احتجاج کرنے والے گارڈز کا الزام ہے کہ حراست کے دوران پولیس اہلکاروں نے ان پر شدید تشدد کیا، جس کے بعد انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت عدالت سے رہائی حاصل کیں۔ سکیورٹی اہلکاروں نے پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ پولیس کے اس مبینہ رویے اور یکطرفہ کارروائی کے خلاف فوری اور سخت قانونی اقدام اٹھایا جائے۔ ترجمان یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ گارڈز وائس چانسلر سے ملاقات کے لیے گئے تھے یونیورسٹی میں گارڈز کی طرف سے کوئی احتجاج نہیں ہوا ہے

