چٹی گوٹھ (نامہ نگار)
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات کی جانب سے تعلیم کے فروغ اور “پڑھے گا پنجاب، بڑھے گا پنجاب” کے ویژن کے باوجود پنجاب ایجوکیشن مینجمنٹ اتھارٹی (پیما) سے منسلک اسکولوں کے فنڈز میں تاخیر کے باعث ہزاروں اساتذہ اور لاکھوں طلبہ کا تعلیمی مستقبل متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ذرائع اور اسکول مالکان کے مطابق محکمہ خزانہ کی جانب سے پیما کے فنڈز بر وقت جاری نہ ہونے کے باعث پیما اسکولز کو گزشتہ دو ماہ کی ادائیگیاں تا حال نہیں ہو سکیں۔ اس صورتحال کے نتیجے میں تقریباً 20 ہزار اساتذہ سمیت لاکھوں بچوں کا تعلیمی سلسلہ متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اسکول لائسنسیز کا کہنا ہے کہ گرمیوں کی تقریباً تین ماہ کی تعطیلات کے بعد تعلیمی ادارے دوبارہ کھلنے جا رہے ہیں، تاہم فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث اسکولز کے روزمرہ اخراجات، اساتذہ کی تنخواہوں اور دیگر ضروری معاملات کو چلانا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ حالیہ مون سون بارشوں کے باعث متعدد اسکولز کے انفراسٹرکچر کو بھی مرمت اور بحالی کی ضرورت ہے۔ ایسے میں اگر بروقت فنڈز جاری نہ کیے گئے تو اسکولز کو تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
متعلقہ اسکول مالکان کا کہنا ہے کہ حکومتِ پنجاب کے “پڑھے گا پنجاب، بڑھے گا پنجاب” کے تعلیمی ویژن کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں کو بروقت مالی وسائل فراہم کیے جائیں، تاکہ نئے تعلیمی سیشن کا آغاز کسی رکاوٹ کے بغیر ممکن بنایا جا سکے۔


