اہم ترین

خانیوال،پبلک سکول اینڈ یونیورسٹی کالج میں سائیکلنگ مقابلے

خانیوال(نمائندہ خصوصی ) پبلک سکول اینڈ یونیورسٹی کالج میں...

گرلز اسکول تربت کی طالبات کا ریڈیو پاکستان کا دورہ

تربت (نمائندہ حصوصی) گورنمنٹ گرلز ماڈل ہائی سکول تربت...

بیوٹمز سکول آف لاء میں موٹ کورٹ کا آغاز، قانونی تعلیم کا معیار بہتر بنانا ضروری ہے، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ

کوئٹہ (نمائندہ حصوصی) بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ...

کمشنر مالاکنڈکا محکمہ تعلیم میں گھوسٹ ملازمین اور غیر حاضر عملے کے خلاف سخت کارروائی کا حکم

مالاکنڈ (نمائندہ حصوصی) کمشنر مالاکنڈ ڈویژن اقبال حسین باچا...

کامسیٹس وہاڑی کی سمسٹر فیسوں میں دگنا اضافہ

میلسی (نیوز رپورٹر)

کامسیٹس یونیورسٹی وہاڑی کیمپس میں گزشتہ سال کے مقابلے میں سمسٹر فیسوں میں اچانک دوگنا اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے باعث ضلع وہاڑی کے دیہی علاقوں اور متوسط طبقات سے تعلق رکھنے والے طلباء و طالبات شدید مالی مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔ فیسوں میں اس غیر معمولی اضافے کی وجہ سے کم آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کے لیے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنا انتہائی دشوار ہو چکا ہے۔

متاثرہ طلباء اور ان کے والدین نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اپیل کی ہے کہ کامسیٹس وہاڑی کیمپس کی سمسٹر فیسیں فوری طور پر گزشتہ سال کی سطح پر بحال کی جائیں۔

طلباء کا کہنا ہے کہ ضلع وہاڑی کے دیہی علاقوں اور محدود وسائل رکھنے والے بیشتر خاندان پہلے ہی شدید مالی مشکلات کے باوجود اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم فیسوں میں اچانک اس قدر اضافے سے طلباء کا تعلیمی مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔ طلباء اور والدین نے فیسوں کے فیصلے پر فوری نظرثانی اور مناسب ریلیف کا مطالبہ کیا ہے تاکہ طلباء کی تعلیم ادھوری نہ رہے۔

واضح رہے کہ کامسیٹس یونیورسٹی کے این ٹی ایس (NTS) ٹیسٹ میں 71 فیصد نمبر حاصل کرنے والے طالبعلم والد سید واجد اکرام نے بتایا کہ حکومت ایک طرف مفت تعلیم کی فراہم کے دعوے کر رہی ہے جبکہ دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ نے فیسیں ڈبل کر دی ہیں جو والدین کی پہنچ سے باہر ہیں۔ انہوں نے حکامِ بالا سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ بروقت نوٹس لیں تاکہ طلباء اپنی تعلیم بلا تعطل جاری رکھ سکیں۔