Become a member

Get the best offers and updates relating to Liberty Case News.

― Advertisement ―

spot_img
Homeتازہ ترینگومل یونیورسٹی ڈگری اسکینڈل پر یونیورسٹی انتظامیہ کی اہم وضاحت

گومل یونیورسٹی ڈگری اسکینڈل پر یونیورسٹی انتظامیہ کی اہم وضاحت

ڈیرہ اسماعیل خان ( نمائندہ خصوصی) گومل یونیورسٹی کے رجسٹرار طاہر شاہ نے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر یونیورسٹی کی جعلی ڈگریوں سے متعلق چلنے والی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یونیورسٹی کے ریگولر سسٹم 2023ء کے بعد سے کسی بھی ریگولر یا پرائیویٹ کالج کی کوئی بھی ڈگری جعلی نہیں ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے طلبہ اور ان کے والدین کو پیغام دیا کہ ماضی کے ریکارڈ کی چھان بین کے دوران 2018ء سے 2022ء اور 2019ء سے 2023ء کے ریکارڈ میں گڑبڑ پائی گئی تھی، جس کے نتیجے میں 542 بوگس (جعلی) ڈگریوں کی نشان دہی کی گئی ہے۔ اس گڑبڑ کی نشان دہی جوہر آباد، لیہ اور پنجاب کے دیگر پرائیویٹ کالجوں کے ریکارڈ میں ہوئی تھی۔

سہولت کاروں کے خلاف کارروائی، رجسٹرار طاہر شاہ نے بتایا کہ اس سلسلے میں قائم انکوائری کمیٹی کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے بعد، یونیورسٹی کے اندر موجود ان کے سہولت کاروں کو ٹریس کر لیا گیا ہے۔ ان ملوث افراد میں ایک نائب قاصد، کنٹرولر امتحانات اور دو ڈائریکٹر ایفلی ایشن شامل ہیں، جنہیں باضابطہ طور پر معطل کر کے 30 دن کے اندر جواب دہی کے لیے شوکاز نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔

مستقبل کا لائحہ عمل اور شفافیت، انہوں نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ گومل یونیورسٹی سے الحاق شدہ کل 72 پرائیویٹ کالجوں میں سے 10 کالجوں کے ریکارڈ کو ہائی لیول کمیٹی کے ذریعے چیک کروا لیا گیا ہے، جبکہ باقی سب کالجوں کے متعلق رپورٹ آنے کے بعد ان رپورٹوں کو بھی میڈیا کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔

رجسٹرار کا کہنا تھا کہ موجودہ وائس چانسلر کی ہدایت پر یونیورسٹی میں اب جدید سی ایم ایس نافذ کر دیا گیا ہے، جس کے تحت اب ہر پرائیویٹ کالج کا امتحان یونیورسٹی کی براہِ راست نگرانی میں ہوگا تاکہ مستقبل میں ایسی کسی گڑبڑ کا امکان ختم کیا جا سکے۔