لاہور(ایجو کیشن رپورٹر) یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور (لوئر مال کیمپس) میں ”اَن ہیرڈ، اَن سنگ، اَن فریمڈ“کے عنوان سے ایک منفرد مصوری کی نمائش کا انعقاد کیا گیا، جس میں بصری فن کے ذریعے محنت کش طبقے کی اکثر نظر انداز کی جانے والی خدمات کو اجاگر کیا گیا۔ نمائش کا افتتاح وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عاکف انور چودھری نے
کیا جبکہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، لاہور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر چوہدری مہمانِ خصوصی تھے۔
نمائش میں 59 فکر انگیز فن پارے پیش کیے گئے، جن کے ذریعے فن کو سماجی شعور اور تحقیق کے مؤثر ذریعہ کے طور پر پیش کیا گیا۔ نمائش میں ان افراد کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا جو عموماً کم اہم سمجھے جانے والے پیشوں سے وابستہ ہیں، جن میں خاکروب، صنعتی مزدور، مالی اور خوانچہ فروش شامل ہیں، اور جن کی خدمات معاشرے میں نہایت اہم ہونے کے باوجود اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہیں۔
یہ نمائش فائن آرٹس کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ ضیاء شیخ کی زیرِ نگرانی ترتیب دی گئی۔ اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عاکف انور چودھری نے کہا کہ یہ نمائش معاشرتی شعور اجاگر کرنے میں فن کے کردار کو فروغ دینے کے لیے یونیورسٹی کے عزم کی عکاسی کرتی ہے، اور ایک جامع اور ہمدرد معاشرے کی تشکیل کے لیے محنت کش طبقے کی خدمات کا اعتراف نہایت ضروری ہے۔
جبکہ وائس چانسلر جی سی یو لاہور پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر چوہدری نے نوجوان فنکاروں کی تخلیقی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی سرگرمیاں معاشرے کے نظر انداز طبقات کو اجاگر کرنے اور فن کے ذریعے بامعنی مکالمے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
تقریب میں آرٹ سے دلچسپی رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مہمانانِ اعزاز میں پرنسپل لوئر مال کیمپس پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر سلیم، ڈائریکٹر ڈی اے ایس
یس پروفیسر ڈاکٹر احسن بشیر، ڈائریکٹر ڈی آئی او ایل پروفیسر ڈاکٹر وحید، اور ڈائریکٹر ڈی ایم اے ایس پروفیسر ڈاکٹر شاہد طفیل شامل تھے۔ اس موقع پر شریک فنکاروں میں تعریفی اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔

