لاہور (ایجو کیشن رپورٹر ) یوای ٹی لاہو کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر نے نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں منعقدہ میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اعلیٰ تعلیم میں مصنوعی ذہانت (AI) سے ہم آہنگ افرادی قوت کی تیاری کے موضوع پر مؤثر پریزنٹیشن پیش کی۔
اپنے خطاب میں ڈاکٹر شاہد منیر نے اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کو مستقبل کی تعلیم کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ بدلتی ہوئی عالمی تعلیمی ضروریات کے مطابق جامعات کو جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور ڈیجیٹل مہارتوں سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت مستقبل کی تعلیم، تحقیق اور معیشت کا بنیادی جزو بن چکی ہے، لہٰذا تعلیمی اداروں کو اس کے تقاضوں کے مطابق نئی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔
پالیسی ڈائیلاگ کے دوران ڈاکٹر شاہد منیر کے وژن اور تجاویز کو نمایاں پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ ان کی سفارشات کو جنوبی ایشیا کے مجوزہ تعلیمی پالیسی فریم ورک میں شامل کیے جانے کا بھی امکان ظاہر کیا گیا۔
دورے کے دوران وائس چانسلر نے UNESCO، ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB)، چین اور جنوبی ایشیائی ممالک کے نمائندوں اور مختلف جامعات کے وائس چانسلرز سے اہم ملاقاتیں بھی کیں، جن میں علاقائی تعلیمی تعاون، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور اعلیٰ تعلیم میں AI کے مؤثر انضمام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس بین الاقوامی فورم میں شرکت کے ذریعے یو ای ٹی لاہور نے نہ صرف پاکستان کے مؤقف کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا بلکہ علاقائی تعلیمی قیادت اور پالیسی سازی میں اپنے علمی کردار کو مزید مضبوط بنایا۔ یہ شرکت مستقبل میں جنوبی ایشیا میں تعلیمی تعاون، تحقیق اور ٹیکنالوجی پر مبنی پالیسی سازی کے فروغ میں اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

