اہم ترین

خانیوال،پبلک سکول اینڈ یونیورسٹی کالج میں سائیکلنگ مقابلے

خانیوال(نمائندہ خصوصی ) پبلک سکول اینڈ یونیورسٹی کالج میں...

گرلز اسکول تربت کی طالبات کا ریڈیو پاکستان کا دورہ

تربت (نمائندہ حصوصی) گورنمنٹ گرلز ماڈل ہائی سکول تربت...

بیوٹمز سکول آف لاء میں موٹ کورٹ کا آغاز، قانونی تعلیم کا معیار بہتر بنانا ضروری ہے، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ

کوئٹہ (نمائندہ حصوصی) بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ...

کمشنر مالاکنڈکا محکمہ تعلیم میں گھوسٹ ملازمین اور غیر حاضر عملے کے خلاف سخت کارروائی کا حکم

مالاکنڈ (نمائندہ حصوصی) کمشنر مالاکنڈ ڈویژن اقبال حسین باچا...

8 بڑی جامعات میں بھرتیوں کی تحقیقات شروع، فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم

پشاور ( نیوز رپورٹر) محکمہ ہائر ایجوکیشن، آرکائیوز اینڈ لائبریریز خیبر پختونخوا نے صوبے کی 8 بڑی سرکاری جامعات میں ہونے والی حالیہ تقرریوں، سلیکشن بورڈز اور بھرتیوں کے طریقہ کار کی تحقیقات کے لیے 5 رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

سیکرٹری ہائر ایجوکیشن کی منظوری سے قائم کی گئی یہ کمیٹی یونیورسٹی آف ایگریکلچر پشاور، یونیورسٹی آف مالاکنڈ، یونیورسٹی آف سوات، شہید بے نظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی پشاور، شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی شیرنگل اپر دیر، یونیورسٹی آف ہری پور، خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور اور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز سوات میں بھرتیوں کے تمام مراحل کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے

کہ وہ 15 روز کے اندر اپنی رپورٹ اور سفارشات پیش کرے۔ تحقیقاتی کمیٹی میں سابق وائس چانسلر اور معروف ماہرِ تعلیم پروفیسر ڈاکٹر قاسم جان کو کنوینر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ وائس چانسلر عبدالولی خان یونیورسٹی مردان پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد، لاء آفیسر طاہر اقبال، صوبائی معائنہ ٹیم کا نمائندہ اور ڈپٹی سیکرٹری یونیورسٹیز-1 بطور ارکان شامل ہوں گے۔

یہ کمیٹی اسامیوں کے اشتہارات، خالی اسامیوں کی تعداد، شارٹ لسٹنگ کے معیار، سکروٹنی اور لسٹنگ کمیٹیوں کی تشکیل، این او سی کے اجراء اور سلیکشن بورڈز کی قانونی حیثیت سمیت دیگر ممکنہ بے ضابطگیوں کا باریک بینی سے معائنہ کرے گی۔ دوسری جانب اس پیشرفت پر تعلیمی حلقوں اور اساتذہ تنظیموں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جنہوں نے اسے جامعات کی خودمختاری کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ اساتذہ کا موقف ہے کہ

اس نوعیت کی تحقیقات سے انتظامی اور تدریسی معاملات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب کئی جامعات میں وائس چانسلرز کی مدتِ ملازمت ختم ہونے کے قریب ہے اور نئے وائس چانسلرز کی تعیناتی کا عمل جاری ہے۔ تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تحقیقات کا مقصد صرف شفافیت، میرٹ اور قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔