سپیشل رپورٹر< لاہور پنجاب بھر کے تمام تعلیمی بورڈز کے تحت امتحانی نظام میں تاریخی اصلاحات کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، جس سے صوبے بھر کے تقریباً 50 لاکھ طلبہ کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ ان نئے اقدامات کا مقصد امتحانات کے طریقہ کار کو شفاف بنانا اور طلبہ کے لیے یکساں تعلیمی معیار قائم کرنا ہے۔ چیئرمین ٹاسک فورس برائے امتحانات مزمل محمود کے مطابق، آئندہ امتحانات میں پنجاب کے تمام بورڈز کے لیے پیپر پیٹرن، سیکریسی اور سوالیہ پیپرز میں ڈیفکٹی لیول کا معیار بالکل ایک جیسا رکھا جائے گا۔ نئے نظام کے نمایاں خد و خال یکساں معیارِ امتحانات> آزاد اور ریگولر طور پر پرچہ دینے والے تمام طلبہ کے لیے سوالات کی مشکل اور معیار کا تناسب اب پورے پنجاب میں یکساں ہوگا۔
پشاور کے 45 نجی سکولوں میں غیر قانونی افغان طلبہ کے داخلوں کا انکشاف
آن اسکرین مارکنگ اور ری چیکنگ اساتذہ اب طلبہ کے پرچوں کی مارکنگ ڈیجیٹل انداز میں (آن اسکرین) کریں گے، جس سے نہ صرف نظام میں شفافیت آئے گی بلکہ طلبہ کو پرچے کی ری چیکنگ کے لیے بھی آن لائن سہولت میسر ہوگی۔
بہتر نتائج اور نمبروں کا حصول: ربرکس (Rubrics) کا معیار بہتر طریقے سے طے کرنے سے طلبہ کو اردو اور انگریزی جیسے مضامین میں بھی سو فیصد تک نمبر حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔
خصوصی سیکریسی ڈیپارٹمنٹ: امتحانات میں مکمل رازداری اور سیکریسی کو برقرار رکھنے کے لیے ایک الگ سے باقاعدہ محکمہ تشکیل دیا جائے گا۔
نتائج کا مستقل شیڈولاصلاحات کے تحت اب پنجاب کے تمام بورڈز میں انٹرمیڈیٹ (بارہویں جماعت) کے سالانہ نتائج ہر سال باقاعدگی سے
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات سے نہ صرف مارکنگ کا پرانا اور پیچیدہ نظام بہتر ہوگا بلکہ صوبے بھر کے طلبہ کو یکساں تعلیمی مواقع اور شفاف نتائج کی سہولت بھی مل سکے گی۔
پشاور(ایجو کیشن رپورٹر) پی ایم ایس نتائج کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر، انگریزی…
لاہور(کرائم رپورٹر) صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے سندر میں نجی یونیورسٹی کی طالبہ کو سنگین…
ڈاکٹر وسیم قاضی جامعہ کراچی کے نئے وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری کراچی(سپیشل رپورٹر)سندھ کی…
مردان (ایجو کیشن رپورٹر) حکومت خیبر پختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے جاری کردہ…
پشاور (سپیشل رپورٹر) خیبر پختونخوا کی سرکاری جامعات میں ہونے والی بھرتیوں کے حوالے سے…
پیرس (مانیٹرنگ ڈیسک)فرانس میں ابتر تعلیمی نظام، اساتذہ کی شدید کمی اور نئی داخلہ پالیسی…