سماعت سے محروم اور جسمانی معذور بچوں کی ضروریات عام بچوں سے مختلف ہیں: آمنہ سردارخصوصی بچوں کی مختلف کیٹیگریز کے لیے الگ نصاب بنانا مشکل ہے: پارلیمانی سیکرٹری
پشاور (نامہ نگار) خیبر پختونخوا اسمبلی میں خصوصی بچوں کی تعلیمی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے الگ نصاب اور ماہر اساتذہ کی فراہمی کا مطالبہ سامنے آ گیا۔
اسمبلی میں بحث و مطالبہ وقفہ سوالات کے دوران مسلم لیگ (ن) کی رکن اسمبلی آمنہ سردار نے موقف اختیار کیا کہ نابینا، سماعت و گویائی سے محروم، پڑھنے میں مشکلات اور جسمانی معذوری رکھنے والے بچوں کی ضروریات عام بچوں سے مختلف ہیں۔ اس لیے ماہرینِ تعلیم کی مدد سے ان کے لیے الگ نصاب مرتب کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام بچوں کی ذہنی صلاحیتیں یکساں نہیں ہوتیں، اس لیے خصوصی بچوں کے لیے الگ تعلیمی نظام وقت کی اہم ضرورت ہے۔حکومت کا ردِعمل اور امتحانی نتائج
پارلیمانی سیکرٹری برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم رجب علی عباسی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ خصوصی بچوں کی مختلف کیٹیگریز کے لیے الگ نصاب بنانا ایک مشکل عمل ہے، تاہم صوبے میں فی الوقت یکساں نصاب رائج ہے اور خصوصی بچوں کو ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔انہوں نے بورڈ امتحانات کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا
سال 2025 کے بورڈ امتحانات کل 248 خصوصی بچوں نے شرکت کی۔۔
پشاور(ایجو کیشن رپورٹر) پی ایم ایس نتائج کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر، انگریزی…
لاہور(کرائم رپورٹر) صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے سندر میں نجی یونیورسٹی کی طالبہ کو سنگین…
ڈاکٹر وسیم قاضی جامعہ کراچی کے نئے وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری کراچی(سپیشل رپورٹر)سندھ کی…
مردان (ایجو کیشن رپورٹر) حکومت خیبر پختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے جاری کردہ…
پشاور (سپیشل رپورٹر) خیبر پختونخوا کی سرکاری جامعات میں ہونے والی بھرتیوں کے حوالے سے…
پیرس (مانیٹرنگ ڈیسک)فرانس میں ابتر تعلیمی نظام، اساتذہ کی شدید کمی اور نئی داخلہ پالیسی…