اہم ترین

خانیوال،پبلک سکول اینڈ یونیورسٹی کالج میں سائیکلنگ مقابلے

خانیوال(نمائندہ خصوصی ) پبلک سکول اینڈ یونیورسٹی کالج میں...

گرلز اسکول تربت کی طالبات کا ریڈیو پاکستان کا دورہ

تربت (نمائندہ حصوصی) گورنمنٹ گرلز ماڈل ہائی سکول تربت...

بیوٹمز سکول آف لاء میں موٹ کورٹ کا آغاز، قانونی تعلیم کا معیار بہتر بنانا ضروری ہے، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ

کوئٹہ (نمائندہ حصوصی) بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ...

کمشنر مالاکنڈکا محکمہ تعلیم میں گھوسٹ ملازمین اور غیر حاضر عملے کے خلاف سخت کارروائی کا حکم

مالاکنڈ (نمائندہ حصوصی) کمشنر مالاکنڈ ڈویژن اقبال حسین باچا...

عید سے قبل اساتذہ کی "عید” ہوگئی, ہارڈ شپ پر تبادلوں کے منتظر ہزاروں اساتذہ کو آرڈرز مل گئے

لاہور (نیوز رپورٹر) صوبائی حکومت نے عید الفطر سے قبل اساتذہ کو بڑا تحفہ دیتے ہوئے ہارڈ شپ کی بنیاد پر تبادلوں کے منتظر ہزاروں اساتذہ کے آرڈرز جاری کر دیے ہیں، جس کے بعد اساتذہ برادری میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور انہوں نے اسے "عید سے پہلے عید” قرار دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ اسکول ایجوکیشن میں تبادلوں کے لیے تقریباً 56 ہزار اساتذہ نے درخواستیں جمع کروائی تھیں،

جن میں سے کڑی چھان بین اور میرٹ پر پورا اترنے والے لگ بھگ 8 ہزار اساتذہ کو حتمی طور پر منتخب کیا گیا تھا۔ ان اساتذہ کو گزشتہ تین ماہ سے اپنے تبادلوں کے آرڈرز کا شدت سے انتظار تھا اور آرڈرز کے اجرا میں تاخیر کی وجہ سے اساتذہ تنظیموں اور منتخب امیدواروں میں تشویش پائی جا رہی تھی، تاہم صوبائی وزیر تعلیم کی جانب سے 18 مارچ کی ڈیڈ لائن کے مطابق تمام انتظامی رکاوٹیں دور کر کے آرڈرز آن لائن سسٹم اور متعلقہ دفاتر کے ذریعے جاری کر دیے گئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تبادلوں کے اس عمل کو شفاف بنانے کے لیے خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں جنہوں نے میرٹ اور ہارڈ شپ کے مروجہ قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے حتمی فہرستیں تیار کیں۔ آرڈرز کی وصولی کے بعد اساتذہ نے سکھ کا سانس لیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ عید کی چھٹیوں سے قبل اپنے پسندیدہ یا قریبی اسٹیشنز پر تبادلہ ہونا ان کے لیے کسی بڑی نعمت سے کم نہیں ہے۔ اساتذہ نے حکومتی اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے

کہ اس فیصلے سے نہ صرف ان کی سفری اور ذاتی مشکلات میں کمی آئے گی بلکہ وہ عید کے بعد نئے تعلیمی سیشن میں زیادہ جذبے اور یکسوئی کے ساتھ اپنی تدریسی ذمہ داریاں پوری کر سکیں گے۔ محکمہ تعلیم کے حکام نے واضح کیا ہے کہ تمام تبادلے مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر کیے گئے ہیں تاکہ تعلیمی نظام میں شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔