سندھ ہائی کورٹ نے چیئرمین نیب، چیف سیکرٹری اور ڈی سی ملیر سمیت دیگر حکام سے 4 ہفتوں میں جواب طلب کر لیا
کراچی (سپیشل رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے ضلع ملیر میں “ایجوکیشن سٹی” کے نام پر اربوں روپے مالیت کی 19 ہزار 600 ایکڑ سے زائد سرکاری زمین کی مبینہ غیر قانونی الاٹمنٹ کے خلاف دائر درخواست پر پیپلز پارٹی کی رہنما فریال تالپور، سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم حسین، چیئرمین نیب اور دیگر اعلیٰ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔
عدالتی کارروائی اور بینچ: جسٹس عدنان الکریم اور جسٹس ذوالفقار سانگی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی، سیکریٹری بورڈ آف ریونیو، کمشنر کراچی، ڈی سی ملیر، مختیار کار اور دیگر متعلقہ افسران کو بھی نوٹسز جاری کیے۔
درخواست گزار کا مؤقف: درخواست گزار کے وکیل غلام اکبر جتوئی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ملیر کی مختلف دیہہ میں تقریباً 19,600 ایکڑ قیمتی سرکاری زمین “ایجوکیشن سٹی” کے نام پر الاٹ کی گئی، لیکن برسوں گزرنے کے باوجود اس منصوبے پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ وکیل نے الزام عائد کیا کہ:
- یہ زمین مبینہ طور پر ملی بھگت سے ‘مڈل مین’ کے ذریعے اصل فائدہ اٹھانے والوں کو منتقل کی گئی۔
- الانیٹمنٹ کے عوض سرکاری خزانے میں کوئی رقم جمع نہیں کرائی گئی۔
- مقامی ہاریوں کے حقوق پامال کر کے زمینوں پر قبضے کیے گئے۔
استدعا: درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ اس غیر قانونی اور غیر آئینی الاٹمنٹ کو فوری طور پر کالعدم قرار دیا جائے اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔ عدالت نے تمام فریقین کو نوٹس جاری کر دئیے ہیں

