Become a member

Get the best offers and updates relating to Liberty Case News.

― Advertisement ―

spot_img
Homeبریکنگ نیوزتعلیمی بورڈز میں مستقل چیئرمینز کی تعیناتی، انٹرویوز کا حتمی مرحلہ مکمل،...

تعلیمی بورڈز میں مستقل چیئرمینز کی تعیناتی، انٹرویوز کا حتمی مرحلہ مکمل، امیدواروں کی کلیرنس کے لیے سپیشل برانچ سے رجوع

وزیر تعلیم رانا سکندر حیات خود انٹرویوز لے رہے ہیں، امیدواروں کی اے آئی اور ٹیکنالوجی کی مہارت کا کڑا امتحان

لاہور (ایجوکیشن رپورٹر) پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈز میں مستقل چیئرمینز کی تعیناتی کے لیے انتخابی عمل اپنے آخری اور اہم ترین مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے شارٹ لسٹ کیے گئے 50 امیدواروں کے انٹرویوز لینے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے تاکہ میرٹ کی بنیاد پر موزوں ترین افسران کا انتخاب کیا جا سکے۔

محکمہ تعلیم کے مطابق تعلیمی بورڈز کی سربراہی کے لیے مجموعی طور پر 250 سے زائد امیدواروں نے درخواستیں دی تھیں، جن کی ابتدائی اسکروٹنی اور انٹرویوز کے بعد 50 امیدواروں کو حتمی مرحلے کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا۔ وزیر تعلیم رانا سکندر حیات ان تمام امیدواروں کے انٹرویوز خود لے رہے ہیں تاکہ شفافیت کو ہر سطح پر یقینی بنایا جا سکے۔

جدید مہارتوں پر توجہ، انٹرویوز کے دوران وزیر تعلیم امیدواروں کی انتظامی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ ان کی ٹیکنالوجی سے آگاہی کو خاص طور پر جانچ رہے ہیں۔ امیدواروں سے مندرجہ ذیل پہلوؤں پر سوالات کیے جا رہے ہیں:

  • مصنوعی ذہانت (AI): امیدواروں کے اے آئی بیسڈ ویژن اور امتحانی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی صلاحیت۔
  • بورڈ مینجمنٹ: امتحانی عمل میں شفافیت اور انتظامی اصلاحات کے حوالے سے حکمت عملی۔
  • اصلاحاتی ایجنڈا: امیدواروں سے استفسار کیا جا رہا ہے کہ بطور چیئرمین وہ بورڈ میں کیا نمایاں تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں۔

وزیر تعلیم کا موقف، رانا سکندر حیات کا کہنا ہے کہ “تعیناتی کے لیے نو پرچی، نو سفارش، صرف میرٹ” کا اصول اپنایا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بورڈز کے چیئرمینز کی میرٹ پر تعیناتی سے نہ صرف امتحانی نظام بہتر ہوگا بلکہ نظام میں شفافیت اور عوامی اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا۔

مستقل چیئرمینز کی تعیناتی سے تعلیمی بورڈز میں برسوں سے جاری ایڈہاک ازم کا خاتمہ ہوگا اور امتحانی ریفارمز کے عمل میں تیزی آئے گی۔