Become a member

Get the best offers and updates relating to Liberty Case News.

― Advertisement ―

spot_img
Homeبریکنگ نیوزگومل یونیورسٹی میں 514 مشکوک ڈگریوں کا اسکینڈل بے نقاب، سابق ڈائریکٹر...

گومل یونیورسٹی میں 514 مشکوک ڈگریوں کا اسکینڈل بے نقاب، سابق ڈائریکٹر ایفلی ایشن معطل

مالی خورد برد اور جعلی ڈگری کیس کے تناظر میں موجودہ ایڈیشنل کنٹرولر امتحانات کے خلاف بھی کارروائی کا آغاز

پشاور (بیورو رپورٹ) گومل یونیورسٹی میں مبینہ جعلی ڈگریوں، مالی بے ضابطگیوں اور سرکاری فنڈز میں بڑے پیمانے پر خورد برد کا ایک اور بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے۔ یونیورسٹی کی اندرونی تحقیقاتی دستاویزات اور سرکاری احکامات کے مطابق، ابتدائی انکوائری میں سیکڑوں مشکوک ڈگریوں، جعلی مالیاتی دستاویزات اور قواعد و ضوابط کے برعکس مالی لین دین کے ٹھوس شواہد ملے ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اہم افسران کو معطل کر کے مزید اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

اسکینڈل کا پس منظر اور تحقیقات

دستیاب ریکارڈ کے مطابق، جن مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، ان کا تعلق بنیادی طور پر سال 2019ء سے 2023ء کے عرصے سے ہے۔ موجودہ حکومت نے سال 2026ء میں ان معاملات کا سراغ لگایا، جس کے بعد وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد ظفر اقبال کی ہدایت پر 23 اپریل 2026ء کو ایک ابتدائی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس کمیٹی نے یونیورسٹی کے ایفلی ایشن اکاؤنٹ اور الحاق یافتہ کالجوں کے ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا۔

کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق:

  • ریکارڈ کا حجم انتہائی وسیع ہونے کے باعث مختلف کالجوں کا نمونہ جاتی (Sample) معائنہ کیا گیا، جس میں متعدد مالیاتی تضادات اور قواعد کی خلاف ورزیوں کے شواہد ملے۔
  • کچھ معاملات میں یونیورسٹی واجبات مجاز اکاؤنٹس کے بجائے دیگر اکاؤنٹس میں جمع کرائے گئے، جس سے یونیورسٹی کو بھاری مالی نقصان پہنچا۔
  • رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس معاملے میں یونیورسٹی کے مختلف شعبوں کے بعض اہلکار اور اہلکاران بھی ملوث ہو سکتے ہیں، جن کے کردار کی مزید تفتیش لازم ہے۔

الحاق شدہ کالجز اور مشکوک ڈگریاں

ابتدائی رپورٹ میں مجموعی طور پر 514 مشکوک ڈگریوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

  1. پنجاب کالج آف ایکسی لینس، جوہر آباد: اس ادارے سے متعلق 153 ڈگریاں مشکوک قرار دی گئی ہیں۔ کمیٹی کا موقف ہے کہ متعلقہ ادارہ 2019ء سے 2023ء کے عرصے میں مطلوبہ الحاقی شرائط پوری نہیں کر سکا تھا، تاہم اس کے باوجود طلبہ کے نتائج جاری کیے گئے۔
  2. پنجاب کالج آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز، فیصل آباد: اس ادارے سے متعلق 361 ڈگریاں مشکوک پائی گئی ہیں اور ان کی منسوخی کی سفارش کی گئی ہے۔
  3. ماڈرن انسٹی ٹیوٹ آف ماڈرن ایجوکیشن، لیہ: اس ادارے کے 20 ایسے طلبہ کی نشاندہی کی گئی ہے جن کا یونیورسٹی ریکارڈ میں کوئی اندراج موجود نہیں تھا، مگر اس کے باوجود انہیں ڈگریاں جاری کی گئیں۔

سنڈیکیٹ کے فیصلے اور افسران کے خلاف کارروائی

انکوائری رپورٹ سامنے آنے کے بعد، گومل یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے 143ویں اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے۔ 23 مئی 2026ء کو جاری ہونے والے ایک سرکاری حکم نامے کے تحت:

  • سابق ڈائریکٹر ایفلی ایشن ڈاکٹر محمد ثاقب خان کو مبینہ کرپشن، مالی فراڈ اور فنڈز میں بے ضابطگیوں کے الزامات پر فوری طور پر معطل کر کے 90 روزہ جبری رخصت پر بھیج دیا گیا ہے، تاکہ وہ تحقیقات پر اثر انداز نہ ہو سکیں۔
  • موجودہ ایڈیشنل کنٹرولر امتحانات محمد وسیم خان کے خلاف بھی سابق کنٹرولر امتحانات کے دور کے جعلی ڈگری کیس کے تناظر میں کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

آئندہ کا لائحہ عمل

کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ الحاق سیکشن، فنانس ڈائریکٹوریٹ، امتحانی شعبے اور فنانشل ایڈز آفس سمیت تمام متعلقہ دفاتر کا تفصیلی فرانزک آڈٹ کرایا جائے، تاکہ اصل مالی نقصان اور ذمہ دار عناصر کا حتمی تعین ہو سکے۔

ابتدائی انکوائری کے نتائج سامنے آنے کے بعد وائس چانسلر نے ایک نئی اور بااختیار تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جسے 30 روز کے اندر جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کا عزم ہے کہ تحقیقات کو مکمل شفاف انداز میں انجام تک پہنچایا جائے گا اور ملوث پائے جانے والے کسی بھی شخص کو معاف نہیں کیا جائے گا۔