Become a member

Get the best offers and updates relating to Liberty Case News.

― Advertisement ―

spot_img
Homeتازہ ترینملتان میں وزیر تعلیم کی انسپکشن ٹیم کا چھاپہ، سپرنٹنڈنٹ، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ...

ملتان میں وزیر تعلیم کی انسپکشن ٹیم کا چھاپہ، سپرنٹنڈنٹ، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اور نگران عملہ گرفتار

ملتان (نامہ نگار) بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ملتان کے زیرِ اہتمام ہونے والے امتحانات میں نقل کی منظم کوشش کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔ انٹرمیڈیٹ اور میٹرک کے پریکٹیکل امتحانات کے دوران امتحانی عملے اور بیرونی عناصر (آؤٹ سائیڈرز) کو طلبہ کو نقل کرواتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحانات 2026ء کے دوران گورنمنٹ ماڈل ہائی اسکول ملتان میں صوبائی وزیر تعلیم کی خصوصی انسپکشن ٹیم نے اچانک چھاپہ مارا۔ چھاپے کے دوران امتحانی سینٹر کے اندر سپرنٹنڈنٹ، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اور نگران عملے کو طلبہ کو نقل کرواتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گیا۔ انسپکشن ٹیم کی فوری رپورٹ پر ملتان بورڈ کے کنٹرولر امتحانات عمران احمد نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پورے امتحانی سینٹر کا عملہ تبدیل کر دیا، جبکہ ملوث عملے کے خلاف اعلیٰ سطح پر انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے۔

میٹرک پریکٹیکل میں کارروائی، دوسری جانب، میٹرک کے پریکٹیکل امتحانات کے دوران گورنمنٹ کمپنی ہینو ہائی اسکول کے امتحانی سینٹر میں بیرونی افراد (آؤٹ سائیڈرز) کی جانب سے طلبہ کو پریکٹیکل امتحان میں نقل کروانے کا انکشاف ہوا ہے۔ وزیر تعلیم کی انسپکشن ٹیم نے خفیہ اطلاع پر سینٹر کا اچانک دورہ کیا اور وہاں موجود آؤٹ سائیڈرز کو موقع پر ہی دھر لیا۔ ٹیم نے موقع پر موجود تمام ثبوت اکٹھے کرنے کے بعد ان افراد کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ پولیس نے ملزمان کے خلاف امتحانی دھاندلی اور امتحانی قواعد کی خلاف ورزی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔

کنٹرولر امتحانات کا مؤقف، کنٹرولر امتحانات ملتان بورڈ، عمران احمد کا کہنا ہے کہ امتحانات کی شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کسی بھی قسم کی بے قاعدگی یا نقل کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام امتحانی سینٹرز پر سخت نگرانی رکھی گئی ہے اور قانون ہاتھ میں لینے والے قصورواروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔

اس واقعے کے بعد متعلقہ امتحانی سینٹر پر پریکٹیکل امتحانات کی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ کارروائی کی زد میں آنے والے متاثرہ طلبہ کے خلاف بھی علحدہ کارروائی کا امکان ہے، جبکہ فرائض میں غفلت اور بدعنوانی پر تبدیل ہونے والے امتحانی عملے کا کیس باضابطہ طور پر ڈسپلن کمیٹی کو بھجوا دیا گیا ہے۔